30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
الی ذوی الارحام ولامیراث عندھم اصلا لمولی الموالاۃ ولاللمقرلہ بالنسب علی الغیر ولاللموصی یجمع المال۔[1] |
نزدیك مولٰی موالاۃ اورنسب کے اقراروالے شخص اورکل مال کے موصٰی لہ کے لئے کوئی میراث نہیں۔(ت) |
تبیین میں ہے:
|
ان کثیرامن اصحاب الشافعی رضی اﷲ تعالٰی عنہ منھم ابن سریج خالفوہ وذھبوا الٰی توریث ذوی الارحام وھو اختیار فقہائھم للفتوی فی زماننا لفساد بیت المال وصرفہ فی غیرالمصارف۔[2] |
امام شافعی رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے بہت سارے اصحاب جن میں ابن سُریج بھی ہیں نے اس کی مخالفت کی اوروہ ذوی الارحام کو وارث بنانے کی طرف گئے ہیں اوریہی ہمارے زمانے میں فتوٰی کے لئے ان کے فقہاء کامختارہے۔بیت المال کے فاسِدہونے کی وجہ سے اورمصارف کے غیرمیں اس کے خرچ ہونے کی وجہ سے۔(ت) |
انوارشافعیہ میں ہے:
|
ان لم ینتظم ای بیت المال فالصحیح المرجح المفتی بہ ان یرد الفاضل منھم علیھم ویورث ذو والارحام ان فقدوا۔[3] |
اگربیت المال منتظم نہ ہو تو صحیح راجح مفتٰی بہ قول یہ ہے کہ ذوی الفروض سے بچاہوا انہیں پر رَد کیاجائے گا اوراگر وہ مفقود ہوں تو ذوی الارحام کو وارث بنایاجائے گا۔(ت) |
توفساد بیت المال کے وقت مسئلہ رَدمیں ہمارا ان کااتفاق ہوگیا ہم تورَدمانتے ہی تھے اوراب بوجہ فساد وہ بھی ماننے لگے یہ معنی ہیں عبارت درمختار:
|
ان فضل عن الفروض ولاعصبۃ یردالفاضل علیھم اجماعا لفساد |
اگرذوی الفروض سے کچھ بچ جائے اورکوئی عصبہ موجودنہ ہوتوبچاہوا بالاجماع ذوی الفروض |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع