30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
لاجرم رحیق المختوم میں تصریح فرمائی:
|
ان الرد انما یستحق بالرحم والزوجان لیسا بذوی رحم فلذا استثناھما،وقیل یرد علیھما لفساد بیت المال و قدمنا فی عصبۃ العتق ان ذٰلك لابطریق الارث۔[1] (ملخصًا) |
بیشك رَد کا استحقاق قرابت کی وجہ سے ہے زوجین چونکہ قرابت نہیں رکھتے اس لئے وہ دونوں مستثنٰی ہیں۔اورکہاگیاہے کہ بیت المال کے فاسد ہونے کی وجہ سے زوجین پر رَد کیا جائے گاا ورہم معتق کے عصبہ میں بیان کرچکے ہیں کہ وہ بطور میراث نہیں۔ملخصًا(ت) |
توزوجین کہ باہم اجنبی ہوں اور کوئی رشتہ نہ رکھتے ہوں ان پرردبجہت ارث نہیں ہوسکتا اور اسے ارث ٹھہرانا کتاب اﷲ پرزیادت ہے،تو وہ نہیں مگر اسی وجہ مذکور اولاد رضاعی پر،اورموصی لہ کامانع نہ تھا مگر حق ارث تو ردعلی الزوجین اس کامانع نہیں ہوسکتا بلکہ اس سے مؤخر رہناواجب،وھو المقصود والحمدﷲ الودود۔
فائدہ۱۵:اقول:ردعلی الزوجین اگرمرتبہ میں فرض کیاجائے تو ردکی چارصوتوں سے جن پرمتقدمین متاخرین سب کی کتب اجماع کئے ہوئے ہیں دومنسوخ ہوجائیں کہ اب ذوی الفروض میں من لایردعلیہ کوئی نہ رہا مرد مرے اورایك زوجہ ایك دختر چھوڑے توجمیع کتب متقدمین ومتاخرین حنفیہ میں مسئلہ آٹھ سے کرتے ہیں ایك زوجہ کاکہ صرف اس کافرض ہے اورسات دختر کے چارفرضًا اورتین ردًّا،ہم بہت شکرگزارہوں گے اگرکسی متاخرسے متأخر حنفی معتمد مثلًا علامہ طحطاوی یاعلامہ شامی وغیرہما کسی کے کلام میں دکھادیں کہ صورت مذکورہ میں زوجہ ودخترکونصف نصف دلایاہو،اگرکہئے زوجین پررد ہے تومگر ذوی الفروض النسبیہ پررَد سے مؤخرہے یعنی وہ ہوں توانہیں پررَد ہوگا نہ ان پر،تو اسی کی سند کسی معتمد اگلے پچھلے کے کلام سے دکھائیے جب مذہب منسوب باامیرالمومنین عثمان غنی رضی اﷲ تعالٰی عنہ لیاگیا اورعول پرقیاس کیاگیا اوراسی زعم پرعدم رد کے خلاف روایت ودرایت بتایاگیا تووجہ تفرقہ کیا۔
فائدہ۱۶:اقول:نہ سہی اگرردعلی الزوجین کومتاخرین نے مرتبہ رَدمیں رکھاہے توآخر کسی متاخر نے ذوی الارحام پرمقدم کیاہوگا کہ باجماع حنفِیہ رَد ان پرمقدم ہے اسی کی تصریح
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع