30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
الناس الیہ ولایوضع فی بیت المال وکذا الابن والبنت من الرضاع یصرف الیھما اذا لم یکن ھناك اقرب منھما ذکرھذہ المسائل فی النھایۃ۔[1] |
پررد کیاجاتاہے کیونکہ وہ لوگوں میں سے میت کے قریب ترین ہے اوروہ بچاہوامال بیت المال میں نہ رکھاجائے گا،اسی طرح رضاعی بیٹے اوربیٹی کی طرف مال کولوٹایاجائے گا اگر وہاں ان سے بڑھ کر کوئی قریبی موجودنہ ہو،یہ مسائل نہایہ میں مذکورہیں۔(ت) |
یہ کلام فہیم کے لئے نص صریح ہے کہ رَدعلی الزوجین وراثۃً نہیں بلکہ اسی طرح ہے جیسے مفاسد بیت المال فاسد سے بچنے کورضاعی اولاد کودیاجاتاہے نیز اس پردلیل انہیں امام جلیل کا ارشادہے کہ اصحاب ردپرردبجہت عصوبت ہے۔
|
حیث قال الاخذ بطریق الرد لیس بفرض وانما ھو بطریق العصوبۃ۔[2] |
جہاں فرمایا بطوررَدلینا یہ فرض کے طورپرنہیں بلکہ عصبہ کے طورپرہے۔(ت) |
اورظاہرہے کہ زوجیت عصوبت نہیں،نیزانہیں کاارشادہے:
|
الرد علی ذوی السھام اولٰی من ذوی الارحام لانھم اقرب الاالزوجین فانھما لاقرابۃ لھما مع المیت۔[3] |
ذوی الفرض پررَد کرنا ذوی الارحام سے اولٰی ہے کیونکہ وہ میت سے زیادہ قرب رکھتے ہیں سوائے زوجین کے اس لئے کہ ان دونوں کی میت سے کوئی قرابت نہیں۔(ت) |
نیزامام اجل نسفی کاشرح وافی میں ارشاد:
|
الردباعتبارالرحم حتی لایرد علی الزوجین لعدم الرحم۔[4] |
ردقرابت کے اعتبارسے ہے یہاں تك کہ زوجین پرقرابت کے نہ ہونے کی وجہ سے ردنہیں کیاجاتا۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع