30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
الورثۃ فاذالم یوجد منھم احد فلہ عندنا ماعین لہ کملا،وانما اخرذٰلك عن المقرلہ بناء علی ان لہ نوع قرابۃ بخلاف الموصی لہ۔[1] |
تہائی مال سے زائد کی وصیت کاممنوع ہونا وارثوں کی وجہ سے تھا جب ان میں سے کوئی موجودنہیں توہمارے نزدیك موصی لہ کومکمل طورپر وہ دے دیں گے جس کی تعیین اس کے لئے موصی نے کی ہے۔موصی لہ اس شخص سے مؤخراس لئے ہے کہ جس کے لئے میت نے نسب کااقرارکیاہے کہ اقراروالے کو ایك قسم کی میت سے قرابت حاصل ہے بخلاف موصٰی لہ کے۔(ت) |
اوران مراتب اربعہ جدیدہ کودیاجانا بطورارث نہیں تو واجب کہ موصی لہ بالزائد ردعلی الزوجین وباقی مراتب ثلٰثہ پرمقدم ہو۔
امام فخرالدین زیلعی تبیین میں فرماتے ہیں:
|
لومات المعتق ولم یترك الا ابنۃ المعتق فلاشیئ لبنت المعتق فی ظاھر الروایۃ اصحابنا ویوضع مالہ فی بیت المال وبعض مشائخنا کانوا یفتون بدفع المال الیہا لابطریق الارث بل لانھا اقرب الناس الی المیت فکانت اولٰی من بیت المال الاتری انھا لوکانت ذکراکانت تستحقہ ولیس فی زماننا بیت المال ولو دفع الی السلطان اوالی القاضی لایصرفہ الی المستحق ظاھرا وعلی ھذا مافضل عن فرض احد الزوجین یردعلیہ لانہ اقرب |
اگرمُعتَق مرگیا اورمعتِق کی بیٹی کے علاوہ کسی کو نہ چھوڑا تو ظاہرالروایہ میں ہمارے اصحاب کے نزدیك معتِق کی بیٹی کو کوئی شے نہیں ملے گی اورسارا مال بیت المال میں رکھ دیا جائے گا،ہمارے بعض مشائخ معتِق کی بیٹی کومال دینے کافتوٰی دیتے تھے مگربطورمیراث نہیں بلکہ اس لئے کہ وہ لوگوں میں سے میت کے قریب ترین ہے لہٰذا وہ بیت المال کی بنسبت اولٰی ہے۔کیاتم دیکھتے نہیں کہ اگر وہ مذکر ہوتی تومال کی مستحق ہوتی۔اورہمارے زمانے میں بیت المال نہیں ہے اوراگروہ مال بادشاہ یاقاضی کودیاجائے توبظاہر مستحق پرخرچ نہیں کرتے۔یہی وجہ ہے کہ میاں بیوی میں سے کسی کے فرضی حصہ وصول کرنے کے بعد جوبچ جائے وہ اسی |
[1] ردالمحتار کتاب الفرائض داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۴۸۸،مجمع الانہر شرح ملتقی الابہر کتاب الفرائض داراحیاء التراث العربی بیروت ۲/ ۷۴۸،الشریفیۃ شرح السراجیۃ مقدمۃ الکتاب مطبع علیمی اندرون لوہاری گیٹ لاہور ص۱۱
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع