30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
الرحیق المختوم میں ہے:
|
بنت المعتق فلاشیئ لھا فی ظاھرالروایۃ وافتی بعضھم بدفعہ لھا لکن لابطریق الارث بل لکونھا اقرب الناس الیہ بل ولذی ارحامہ بل وللولد رضاعا کما یرد علی الزوجین فی زماننا کما فی القنیۃ والزیلعی عن النھایۃ والاشباہ اقرہ فی المنح وسکب الانھر۔[1] |
ظاہرالروایہ میں معتِق کی بیٹی کے لئے کچھ نہیں،اوربعض مشائخ نے اس کو دینے کافتوٰی دیاہے لیکن بطور میراث نہیں بلکہ اس لئے کہ وہ لوگوں میں سے میت کے زیادہ قریب ہے بلکہ معتِق کے ذوی الارحام بلکہ اس کی رضاعی اولاد کو دینے کابھی فتوٰی دیاہے جیساکہ ہمارے زمانے میں زوجین پر رَد کیاجاتاہے۔جیساکہ قنیہ،زیلعی بحوالہ نہایہ،اورالاشباہ میں ہے اسی کو برقراررکھاہے منح اور سکب الانہرنے۔(ت) |
کیاکوئی عاقل وہم کرسکتاہے کہ یہ مراتب موصی لہ بالزائد پرمقدم ہیں زیداگر اپنے کل مال کی وصیت عمرو کے لئے کرجائے اورکوئی وارث نہ رکھتا ہوایك لڑکی ہو جس نے اس کی زوجہ کادودھ کہ اس سے تھا پیاہے توزید کی وصیت نافذ نہ کریں گے اورثلث سے زائد اس دودھ کی لڑکی کودے دیں گے یہ بلاشبہہ باطل ومردود وخلاف اجماع ہے یہ سب مراتب جدیدہ اس امرمیں یکساں ہیں کہ سب مرتبہ اخیرہ کے بعد رکھے گئے ہیں۔
فائدہ۱۴:اقول:زیادت علی الثلث میں موصی لہ کاحق صرف وارث سے مؤخرہے اور غیروارث پرمقدم،ولہٰذا بیت المال پر مقدم ہے کہ بیت المال ہمارے نزدیك وارث نہیں۔علامہ سیدشریف شرح سراجیہ پھرعلامہ شیخی زادہ مجمع الانہر پھرعلامہ شامی رد المحتار میں فرماتے ہیں:
|
اذا عدم من تقدم ذکرہ یبدأ بمن اوصی لہ بجمیع المال فتکمل لہ وصیتہ لان منعہ عمازاد علی الثلث کان لاجل |
جب وہ معدوم ہوجائیں جن کاپہلے ذکرہوا تو پھر اس سے ابتداء کی جائے گی جس کے لئے میت نے کل مال کی وصیت کی۔ چنانچہ اس کی وصیت پوری کردی جائے گی اس لئے کہ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع