30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
بنت المعتق ترث فی زماننا لفساد بیت المال وکذا ما فضل عن فرض احد الزوجین یرد علیہ وکذا المال یکون للابن اوالبنت رضاعاکذا فی فرائض الاشباہ واقرہ المصنف وغیرہ[1]۔ |
ذکرکیاکہ معتِق کی بیٹی ہمارے زمانے میں بیت المال کے فساد کی وجہ سے وارث ہوگی یونہی زوجین میں کسی ایك کے فرضی حصہ قبول کرنے کے بعد جوبچ جائے وہ اسی پررَد کردیاجائے گا۔اوراسی طرح ترکہ کامال رضاعی بیٹے یابیٹی کو ملے گا۔الاشباہ کی کتاب الفرائض میں یونہی ہے،اورمصنّف وغیرہ نے اس کو برقراررکھاہے۔(ت) |
ردالمحتارمیں ہے:
|
ومثلہ فی الذخیرۃ قال وھکذا کان یفتی الامام ابو بکر البرزنجری والقاضی الامام صدر الاسلام لانھا اقرب الی المیت من بیت المال فکان الصرف الیھا اولٰی اذلوکانت ذکرا تستحق المال،قولہ ترث فی زماننا عبارۃ الزیلعی یدفع المال الیھا لابطریق الارث بل لانھا اقرب الناس الی المیت ح،قولہ وکذا مافضل الخ عزاہ فی الذخیرۃ الٰی فرائض الامام عبد الواحد الشھید،قولہ للابن اوالبنت رضاعا عزاہ فی الذخیرۃ الٰی محمد رحمہ اﷲ تعالٰی[2]۔ |
اسی کی مثل ذخیرہ میں فرمایا،ا ورایسے ہی فتوٰی دیتے تھے امام ابوبکر البرزنجری اورقاضی امام صدرالاسلام۔کیونکہ معتِق کی بیٹی بیت المال کی بنسبت میت کے زیادہ قریب ہے۔چنانچہ مال کو اس کی طرف پھیرنااولٰی ہے،کیونکہ اگروہ مذکرہوتی تو مال کی مستحق ہوتی۔ماتن کاقول"وہ ہمارے زمانے میں وارث بنے گی"۔زیلعی کی عبارت ہے اس کو مال بطورمیراث نہیں دیاجائے گا بلکہ اس لئے دیاجائے گا کہ وہ لوگوں میں سے میت کے قریب ترین ہے ح۔ماتن کاقول"اوریونہی جوبچ جائے الخ"اس کو ذخیرہ میں فرائض امام عبدالواحد شہید کی طرف منسوب کیاہے۔ماتن کاقول"رضاعی بیٹا یابیٹی"اس کو ذخیرہ میں امام محمدعلیہ الرحمہ کی طرف منسوب کیاہے۔ (ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع