30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تودین تجہیز اس پرمقدم ہونے کے کوئی معنی نہیں فقیر نے جدالممتارمیں اس مسئلہ کااستظہار کیاتھا اوراب یہ اس کی تحقیق تام ہے وباﷲ التوفیق عبارت اس کی یہ ہے:
|
ونصوا علٰی ان الوصی اوالوارث اذا کفن من مال نفسہ کفن المثل یرجع فی الترکۃ ویظھر لی انہ یکون المکفن حینئذاسوۃ للغرباء لاتقدیم لحقہ علٰی حقوقھم وان کان دینہ لاجل التکفین فان تقدیم التجھیز کان لحاجۃ المیت اعتبارا بحالۃ الحیاۃ وقد اندفعت حاجتہ ولم یبق الااداء الدین فیکون کمثل سائر الدیون الاتری ان المدیون ان کان محتاجا الی اللباس یقدم علی اداء الدیون وان البسہ رجل من مال نفسہ شارطا علیہ الرجوع کان کاحد الدائنین،وایضا ربما یستدین الرجل فی حیاتہ لاکلہ وشربہ و مالابدمنہ،فالذی ادانہ لھذا کیف یتأخر عن الذی ادانہ لمثل الحاجۃ بعد الموت،واﷲ تعالٰی اعلم۔[1] اھ۔ |
مشائخ نے اس پرنص فرمائی کہ وصی یاوارث جب اپنے مال میں سے میت کومثلی کفن پہنادے تووہ ترکہ میں رجوع کرے گا۔میرے لئے یہ بات ظاہرہوئی ہے کہ اس صورت میں وہ کفن دینے والاباقی غرباء کے مساوی ہوگا دوسروں کے حق پر اس کاحق مقدم نہ ہوگا اگرچہ اس کایہ قرض تکفین کی وجہ سے ہے کیونکہ تجہیزکومقدم کرنا میت کی حاجت کے لئے اس کی زندگی کی حالت پر قیاس کرتے ہوئے۔اورتحقیق وہ حاجت پوری ہوچکی اورنہ باقی رہا مگرقرض کااداکرنا تو وہ مثل باقی قرضوں کے ہوگیا۔کیاتونہیں دیکھتا کہ مقروض جب لباس کا محتاج ہوتو وہ قرض کی ادائیگی پرلباس کو مقدم رکھتاہے۔ اور اگرکوئی شخص اپنے مال سے اس کو لباس پہنادے اس شرط کے ساتھ کہ وہ اس پررجوع کرلے گا تو وہ دیگر قرضخواہوں میں سے ایك ہوجائے گا نیزبسااوقات کوئی شخص اپنی زندگی میں کھانے پینے اوردیگر ضروری اشیاء کے لئے قرض لیتاہے، تو جس شخص نے ان ضروریات کے لئے قرض دیاوہ اس شخص سے کیسے متأخرہوگا جس نے موت کے بعد ایسی ہی حاجت کے لئے اس کو قرض دیا،اوراﷲ تعالٰی خوب جانتاہے۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع