30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
بعد وفاتہ یقدم تجھیزہ وھو محترم حیاومیتا فلا یجوز کشف عورتہ و فی الاثر لعظام المیت من الحرمۃ مالعظام الحی[1]۔(ملخصًا) |
کے بعد اس کی تجہیزوتکفین کومقدم رکھاجائے گا انسان زندہ و مردہ دونوں حالتوں میں محترم ہے لہٰذا اس کوبرہنہ کرنا جائز نہیں،حدیث میں ہے میت کی ہڈیوں کااحترام وہی ہے جو زندہ کی ہڈیوں کاہے۔ملخصًا(ت) |
اورپرظاہرکہ یہ علت نفس تجہیزمیں ہے نہ دَین تجہیزمیں۔
رابعًا: علماء فرماتے ہیں یہاں دوچیزیں ہیں:حق للمیت اور وہ تجہیزہے،اور حق علی المیت اور وہ دَین ہے،اوراول ثانی پرمقدم ہے۔
علامہ ابن عابدین شامی الرحیق المختوم شرح قلائد المنظوم میں فرماتے ہیں:
|
اعلم ان الحقوق المتعلقۃ بالترکۃ ھنا خمسۃ بالاستقراء لان الحق اما للمیت اوعلیہ اولاوالاول التجہیزوالثانی الدین الخ۔[2] |
توجان لے کہ بیشك میت کے ترکہ سے متعلق حقوق بطور استقراء پانچ ہیں اس لئے کہ حق یاتو میت کے لئے ہوگا یا اس پر ہوگا یاایسانہیں ہوگا بصورت اول تجہیزہے اوربصورت ثانی قرض الخ(ت) |
ظاہرہے کہ دَین تجہیزمثل سائردیون حق علی المیت ہے نہ کہ حق للمیت،تومرتبہ دیون ہی میں ہوگا نہ مرتبہ تجہیزمیں۔
خامسًا: جس طرح یہ دَین حاجت سترکے لئے تھا اور بہت دیون بھی آدمی اپنے کھانے پینے پہننے رہنے وغیرہاحاجات اصلیہ کے اپنی حیات میں لیتاہے،توشیئ اپنے مثل پرکیسے مقدم ہوسکتی ہے،یوں ہی مہرمثل بھی وہ دَین کہ حاجت اصلیہ کے سبب لازم آتاہے۔ ھدایہ باب اقرارالمریض میں ہے:
|
النکاح من الحوائج الاصلیۃ وھو بمھرالمثل[3]۔ |
نکاح حاجات اصلیہ میں سے ہے اور وہ مہرمثل کے ساتھ ہوتاہے۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع