30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
نہ دئیے جائیں گے یاکپڑوں کی حاجت ہے تو اس قدردین میں نہ دیں گے،شریفہ میں فرمایا:
|
انما کان قضاء الدین مؤخرا عن الکفن لانہ لباسہ بعد وفاتہ فیعتبربلباسہ فی حیاتہ الاتری انہ یقدم علی دینہ اذلایباع ماعلی المدیون من ثیابہ مع قدرتہ علی الکسب[1]۔(ملخصًا) |
بیشك قرض کی ادائیگی کفن سے مؤخر اس لئے ہے کہ کفن مرنے کے بعد میت کالباس ہے،لہٰذا اس کو اس کی زندگی کے لباس پرقیاس کیاجائے گا کیانہیں دیکھتے ہوکہ زندگی میں لباس قرض پر مقدم ہوتاہے،اس لئے کسب کی قدرت رکھنے والے مدیون کے کپڑے فروخت نہیں کئے جاتے۔(ملخصًا)(ت) |
اورپرظاہرکہ زیدکے مدیون نے اگرعمرو سے قرض لے کرکپڑے بنائے توعمروکوزید پرکوئی ترجیح نہ ہوگی دونوں دَین یکساں ہوں گے دَین پرتقدم لباس کوتھی نہ کہ دَین لباس کو شرع میں اس کی کہیں اصل نہیں توواجب کودَین تکفین بھی دیگر دیون پر اصلًا مقدم نہ ہوبلکہ کفن دہندہ اسوہ غرباء ہو۔درمنتفی پھر ردالمحتارمیں ہے:
|
الاصل ان کل حق یقدم فی الحیاۃ یقدم فی الوفاۃ[2] اھ ویضم منہ علی العرف الفقھی ان مالایقدم فی الحیاۃ لایقدم فی الوفاۃ۔ |
اصل یہ ہے کہ جوحق زندگی میں مقدم ہوتاہے وہ موت میں بھی مقدم ہوتاہے اھ اورعرف فقہ میں اس کے ساتھ یہ ضابطہ ملایاجاتاہے کہ جوزندگی میں مقدم نہ ہو وہ وفات میں بھی مقدم نہیں ہوتا۔(ت) |
ثالثًا: علماء اس کی وجہ یہ فرماتے ہیں کہ میت کوبرہنہ رکھناجائزنہیں کہ تعظیم مسلمان مردہ و زندہ کی یکساں ہے۔تبیین الحقائق میں فرمایا:
|
المرء یقدم نفسہ فی حیاتہ فیمایحتاج الیہ من النفقۃ والسکنی والکسوۃ علی اصحاب الدیون فکذا |
انسان اپنی ذات کوزندگی میں اپنی ضروری حاجات یعنی نفقہ، سکونت اورلباس میں قرضخواہوں پرمقدم رکھتاہے اسی طرح وفات |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع