30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ردالمحتارمتفرقات البیوع مسئلہ تکفین میں ہے:
|
لوکفن المیت غیرالوارث من مال نفسہ لیرجع فی ترکتہ بغیر امرالوارث فلیس لہ الرجوع اشھد علی الوارث اولم یشھد ولوکفن الوصی من مال نفسہ لیرجع کان لہ الرجوع۔[1] |
اگرغیروارث نے میت کووارث کے حکم کے بغیر اپنے مال سے کفن پہنایا تاکہ وہ ترکہ میں رجوع کرے تو اس کورجوع کااختیارنہیں ہوگا چاہے وارث کوگواہ بنایاہویانہیں اوراگروصی نے اپنے مال سے کفن پہنایا تاکہ وہ ترکہ میں رجوع کرے تو اس کورجوع کااختیارہوگا۔(ت) |
مجمع الفتاوٰی پھرنورالعین پھرتنقیح مغنی المستفتی میں ہے:
|
امراحد الورثۃ انسانا بان یکفن المیت فکفن ان امرہ لیرجع علیہ یرجع کما فی انفق فی بناء داری وھو اختیار شمس الاسلام وذکرالسرخسی ان لہ ان یرجع بمنزلۃ امرالقاضی[2] اھ قلت والتعلیل دلیل التعویل ثم التقدیم دلیل التقدیم ثم الاختیار من الفاظ الفتوی۔ |
اگروارثوں میں سے ایك نے کسی شخص کوکہاکہ وہ میت کو کفن پہنادے اوراس نے پہنادیا اب اگروارث نے اس کو رجوع کاکہا تورجوع کرسکے گا،جیساکہ کوئی کسی کو کہے تو میرے گھرکی عمارت میں خرچ کر،وہی شمس الاسلام کا اختیار ہے،اورامام سرخسی نے ذکرفرمایاکہ اس کوبمنزلہ امرقاضی رجوع کااختیارہے اھ میں کہتاہوں کہ تعلیل دلیل تعویل ہے،پھر تقدیم دلیل تقدیم ہے پھر اختیارفتوی کے الفاظ میں سے۔(ت) |
یہاں شرط رجوع درکنار امرزوجہ برکنار اجازت زوجہ کابھی ثبوت نہیں بلکہ ظاہریہی ہے کہ شاہ محمد نے بطور خود یہ تجہیزوتکفین کی موصی نے اسی کے گھرمیں وفات پائی اس کا اس کایارانہ تھا اوراس نے اس پراحسان کیاکہ اپنے دونوں مکان اورجملہ اسباب خانہ داری اپنی زوجہ سے چھڑاکر اس کووصیت کرگیا اوراس نے وصیت نامہ میں دوجگہ اس سے اپنی تجہیزوتکفین درخواست تھی اورسوال فتوائے دوم جس کی طرز ادابتارہی ہے کہ وہ شاہ محمدکامرتب کرایاہواہے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع