30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
القسمۃ لعقار اومنقول الابرضاھم فلو کان ارض و بناء اومنقول قسم بالقیمۃ عند الثانی وعندالثالث یرد من العرصۃ بمقابلۃ البناء فان بقی فضل ولا یمکن التسویۃ ردالفضل دراھم للضرورۃ و استحسنہ فی الاختیار۔[1] |
نہیں ہوتے مگراس وقت جب شرکاء اس پرراضی ہوں۔چنانچہ اگرزمین،عمارت یا مال منقول ہوتواس کی تقسیم امام ابو یوسف کے نزدیك قیمت کے اعتبارسے ہوگی،اورامام محمدکے نزدیك زمین کو عمارت کے مقابل پھیردیاجائے گا،پھر اگرکچھ عمارت زائد بچ جائے زمین دے کردونوں میں برابری ممکن نہ ہوتو مجبورًا اس زیادتی کے برابر درھم پھیرے جائیں گے۔اختیارمیں ہے اس کومستحسن قراردیاہے۔(ت) |
ہدایہ میں ہے:
|
لاتدخل فی القسمۃ الدراھم والدنانیر الا بتراضیھم لانہ لاشرکۃ فی الدراھم والقسمۃ من حقوق الاشتراك لانہ یفوت بہ التعدیل فی القسمۃ، واذا کان ارض و بناء فعن ابی یوسف انہ یقسم علی اعتبار القیمۃ لانہ لایمکن اعتبار المعادلۃ الا بالتقویم۔[2] |
شرکاء کی باہمی رضامندی کے بغیردراھم ودنانیر تقسیم میں داخل نہیں ہوتے کیونکہ دراہم میں کوئی شراکت نہیں اور تقسیم حقوق اشتراك میں سے ہے،اس لئے بھی کہ اس سے تقسم برابری فوت ہوجاتی ہے۔اورجب زمین مع عمارت ہو توامام ابویوسف علیہ الرحمہ کے نزدیك قیمت کے اعتبارسے تقسیم ہوگی کیونکہ اس کے بغیر برابری کااعتبارممکن نہیں۔ (ت) |
اورروایت مذکورہ امام محمد کے بیان میں فرمایا:
|
اذا بقی فضل ولایمکن تحقیق التسویۃ بان لاتفی الوصیۃ بقیمۃ البناء حینئذ یردللفضل دراھم لان الضرورۃ فی ھذا القدر |
جب عمارت میں کچھ زیادتی باقی رہی اورزمین کی قیمت لگاکر بھی وصیت میں مساوات ممکن نہیں تواب وہ زیادتی بامر مجبوری دراھم سے لوٹائی جائے گی کیونکہ مجبوری فقط اتنی ہی مقدار |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع