30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہوسکتی،سب باطل اورمسئلہ لاتجوز بمازاد علی الثلث الا ان یجیزھا الورثۃ[1] (تہائی مال سے زائد کی وصیت ورثاء کی اجازت کے بغیر جائزنہیں ہوتی۔ت)میں ورثہ سے مراد علماء کی نافہمی پر مبنی ہے۔
(۵۹)فتوی۳ نے اورترقی کی کہ صریح مخالفت عبارت اپنی سندٹھہرائی عبارت ہدایہ:
|
لاتجوز بمازاد علی الثلث لانہ حق الورثۃ۔[2] |
تہائی مال سے زائد کی وصیت اس لئے جائزنہیں کہ وہ وارثوں کاحق ہے۔(ت) |
صاف ارشاد فرمارہی تھی کہ یہ عدم جواز معارضہ حق وراثت کے سبب ہے زوجہ کاحق وراثت ربع سے زیادہ کہاں ہے کہ باقی نصف مال میں معاوضہ کرے۔
(۶۰)یہی خوش فہمی فتوی۶ نے دکھائی عبارت ہدایہ یہ سنائی:
|
لاتجوز بمازاد علی الثلث الا ان یجیزھا الورثۃ لان الامتناع لحقھم۔[3] |
تہائی مال سے زائد کی وصیت جائزنہیں سوائے اس کے ورثاء اجازت دے دیں کیونکہ ممانعت ان کے حق کی وجہ سے ہے۔(ت) |
اورجملہ تعلیل کونہ دیکھاکہ صراحۃً اس کے خلاف ہے،مگریہ اخلاط ان فتاوائے سہ گانہ کی اس شدید غلط فہمی پرمبنی ہیں جس کا کشف افادہ آخرمیں آتاہے ان شاء اﷲ تعالٰی۔
افادہ عاشرہ
کسی تقسیم میں نہ حاکم کو یہ جبرپہنچتاہے نہ ایك حصہ دار کو رواہے کہ بے رضائے دیگربجائے عین،قیمت لے مگربمجبوری محض جہاں بے اس کے مساوات ناممکن ہونہ زنہار حاکم کویہ اختیارکہ بے رضائے فریقین مختلف الجنس اشیاء میں ایك کاحصہ کہ اس جنس میں ہو دوسرے کودے دے اوراس کے بدلے دوسری جنس دوسرے کے حصے سے اسے دلائے۔درمختارمیں ہے:
|
اعلم ان الدراھم لاتدخل فی |
یہ جان لے کہ درھم،زمین اورگھر کی تقسیم میں داخل |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع