30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
قبول نہ کیا۔یہ جزی حکم کس بناپرحالانکہ سوال میں دونوں پہلوتھے۔
افادہ تاسعہ
اگرزوجہ کاقبول ثابت نہ ہو تووصیت کابے اجازت وارث ثلث سے زائد میں نافذنہ ہونا ان ورثہ کے ساتھ ہے جن کے حقوق میراث کے بعد کچھ نہ بچے زوجین کہ کسی حال میں ان کاحق ارث ربع یا نصف سے زائد نہیں،وصیت میں ثلث پرزیادت جہاں تك ان کے حق کے معارض نہیں یعنی زوجہ کے ساتھ ثلث کے علاوہ نصف مال اورزوج کے ساتھ ثلث کے علاوہ دوسرے ثلث میں اس کانفاذ ان کی اجازت ورضاپر موقوف نہیں،ہاں ارث پرحق تقدم صرف ثلث تك ہے جس کابیان اوپرگزرا اس سے یہ لازم نہیں آتاکہ ثلث سے زیادہ موصی لہ بالزائد کوبے ان کی اجازت کے ملتے ہی نہیں یہ محض باطل ہے،نوازل امام فقیہ ابواللیث پھرفتاوٰی حامدیہ،جوہرہ نیرہ پھرعقودالدریہ وغیرہا میں ہے:
|
الوصیۃ بمازاد علی الثلث غیرجائزۃ اذاکان ھناك وارث یجوز ان یستحق جمیع المال اما اذاکان لا یستحق جمیع المیراث کالزوج والزوجۃ فانہ یجوز ان یوصی بمازاد علی الثلث[1]۔ |
تہائی مال سے زائد کی وصیت ناجائزہے جبکہ کوئی ایساوارث موجودہو جوتمام مال کامستحق بن سکتاہے لیکن اگر وہ وارث تمام مال کامستحق نہ بن سکتاہو جیسے خاوند اوربیوی،دوتہائی سے زائد کی وصیت کرناجائزہوگا۔(ت) |
تفریعات
(۵۶)فتوٰی ۱ کاوصیت شاہ محمد کے لئے کہناکہ مدعیہ کے اعتراض کرنے پرتیسرے حصہ میں جائزہوگی زائدمیں جائزنہ ہوگی اس لئے دوحصے عالم خاتون کودیں گے۔
(۵۷)یونہی فتوی ۳ کاقول کہ بوقت موجودگی ورثہ وصیت ثلث سے جاری ہوگی ثلث سے زیادہ ناجائزہے۔
(۵۸)اسی طرح فتوی۶ کاادعاہے کہ مسئلہ زیربحث میں متوفی کی بیوہ موجودہے جواس کی وارث ہے اس لئے جس قدر وصیت ترکہ کے ۳/۱ سے زیادہ ہے بدون اجازت عالم خاتون کے نافذنہیں
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع