30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
فلیسا الیھا قبولہ کمالایخفی۔ |
ہے جسے قبول کرنے کااختیاراس کے پاس نہیں جیساکہ پوشیدہ نہیں۔(ت) |
تفریعات
اس امرمہم کے لحاظ سے سب فتووں نے ذہول کیاجن جن کے سامنے استفتائے ججی خانپور پیش ہوا۔
(۴۷)فتوٰی ۱کاقول مہرکے بعد جس قدر بچے دوحصے عالم خاتون کودیں۔
(۴۸)فتوی۵ کاقول مدعیہ نے وصیت پراعتراض کیااس پرمدعیہ کو۶/۱ملناچاہئے۔
(۴۹)فتوی۶ باقی سے ۴/۱ عالم خاتون کاحق ہے سب محل تفصیل میں یکطرفی حکم ہے۔
(۵۰)فتوی۵ نے اعتراض مدعیہ کے ساتھ استناد کیااورلحاظ نہ کیاکہ اگربعد موت شوہر قبول کرچکی تو اب اعتراض کااسے کیاحق رہا۔
(۵۱)یونہی فتوی ۱ نے کہاکہ مدعیہ کے اعتراض پرتیسرے حصہ کے زائد میں جائزنہ ہوگی،کیا اگر اعتراض بعدالقبول ہو،یہ دونوں فتوے تووصیت بالمنفعت کے بھی قائل نہیں انہیں تویہ کہنالازم تھاکہ اگرزوجہ قبول کرچکی تودامن جھاڑکراُٹھ کھڑی ہو اس کے لئے میراث ووصیت کچھ نہیں کہ مطلقًا اسے پورے دوثلث دے دیں۔
(۵۲)فتوی۵ نے خودہی درمختار سے عبارت نقل کی:
|
ان لم تجز فلہا السدس۔[1] |
اگربیوی نے اجازت نہ دی تو اس کوکل مال کا چھٹا حصہ ملے گا۔(ت) |
اورحکم میں یہ قید بھلادی۔
(۵۳)فتوی۶ نے آپ ہی کہاتھا کہ اگروہ اجازت دے دیں نافذہوگی،پھرکس طرح مطلقًا حکم مذکورلگادیا۔
(۵۴)فتوی۷ نے خودہی کہاکہ اگرورثہ اپنے اضرار کوقبول کرلیں تووہ وصیت زائدعلی الثلث جائزونافذہوگی پھرمطلقًا یہ حکم کس لئے کہ دوسہام جوربع مابقی ہے عالم خاتون کو۔
(۵۵)ہاں فتوی۷ نے یہ علاج کیاکہ وصیت باقی تمام مال کی شاہ محمدکوکی ہے جس کومدعیہ نے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع