30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
ماذکرنا کما بیناہ فی فتاوٰنا۔ |
میں تطبیق وہ ہے جیسا ہم نے اپنے فتاوٰی میں بیان کیا۔(ت) |
بہرحال نکاح ثانی سے عورت یاتوشوہر اول کے لئے رہتی ہی نہیں یا اس کے لئے اس کارہنا مشکوك ہوجاتاہے بخلاف بدکاری کہ وہ اسے حق شوہر سے باہرنہیں کرتی حق کاابطال حق اقوٰی سے ہوتاہے نہ کہ ناحق وباطل طغوی سے جیسے بحال حیات اس کے باعث نہ نکاح میں فرق آئے نہ شوہرکو اس سے جدائی لازم ہو۔درمختارمیں ہے:
|
لایجب علی الزوج تطلیق الفاجرۃ۔[1] |
بدکار عورت کوطلاق دیناخاوند پرواجب نہیں۔(ت) |
(۳۹)فتوی۷ کاوصیت سکنٰی ووصیت ظروف وغیرہا دونوں کوقیدعدم نکاح ثانی سے مقیدکرنا کہ حق سکنٰی وحق استعمال ظروف وغیرہ مدعیہ کو تانکاح ثانی حاصل رہے گاصحیح نہیں۔
افادہ سابعہ
وصیت نامہ کے کسی لفظ کامفادنہیں کہ شاہ محمدخاں موصی لہ بجمیع المال ہو،زیوروں کوجدا کرکے بھی،اس کے لفظ یہ ہیں ماسوا اس کے میری جائدادغیرمنقولہ ازقسم مکانات ہیں وہ پیداکردہ مظہرکے ہیں وہ زیرحفاظت شاہ محمدخاں رہیں گے اورمالك بھی یہی رہے گا۔یہاں سے صرف مکانات کی وصیت ہوئی آگے کہاعلاوہ اس کے اسباب خانہ داری ازقسم برتن وچارپائی وغیرہ جملہ سامان خانہ داری کامالك بھی شاہ محمدخاں رہے گا۔اس سے اثاث البیت کی وصیت ہوئی خاتمہ پر اس نے انہیں اشیائے معینہ میں وصیت کاانحصار کردیاکہ کل اشیائے مندرجہ بالا کامالك شاہ محمدخاں ہے تومندرجہ بالا مکانات واثاث البیت کے سوااگرکچھ ترکہ ہو وہ زیروصیت نہ آیا اوراستفتائے مرتبہ ججی خانپور سے واضح کہ زوجہ دعوٰی کرتی ہے کہ مدعاعلیہ کے پاس دیگر زیورات ازترکہ شوہرش موجودہیں توجب تك اس دعوی کابطلان ثابت نہ ہو شاہ محمدخاں موصی لہ بجمیع المال کیونکر ٹھہرسکتاہے۔ہاں موصی نے ذکرمکانات واختیارفروخت ورہن مکانات کے بعد یہ لفظ بھی لکھاکہ غرضکہ مالك شاہ محمدخاں مکانات وغیرہ کاہے۔یہ وغیرہ اسی اختیار بیع ورہن پرمحمول ہے کہ اس نے اس کے متصل ہی بلافصل یہ لفظ لکھے اورعلاوہ اس کے اسباب خانہ داری الخ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع