30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
انہیں میں ہے:
|
(فان جاء مالکھا)بعد التصدق(خیّر بین اجازۃ فعلہ ولوبعدھلاکھا)ولہ ثوابھا(اوتضمینہ)[1] واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔ |
اگرصدقہ کردینے کے بعد مالك آگیا تواس کو اختیار دیاجائے گا کہ چاہے صدقہ کرنے والے کے فعل کو جائزقراردے اگرچہ اجازت لقطہ کی ہلاکت کے بعد ہو اس کاثواب مالك کوملے گا اور اگرچاہے تو اس کوضامن ٹھہرائے۔(ت)واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔ |
مسئلہ ۳: ازبنارس محلہ کندی گڈھ ٹولہ مسجد بی بی راجی شفاخانہ مرسلہ مولوی حکیم عبدالغفور ۵شعبان ۱۳۱۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زیدصاحب علاقہ وجائداد اپنا ایك موضع جس میں گودام بیل اس کے متعلق مکانات وبنگہ واصطبل وگاڑی خانہ وغیرہ تھے وقدرے اپنے دوسرے موضع سے بعوض چھ ہزارروپے کے بدست عمرو بیع میعادی مدت دس سال کی کرتاہے اورخالد عم زادہ زید جس کا کاروبارسب زید سے علیحدہ عمرو مشتری سے یہ شرط کرتاہے کہ بیع میعادی کرلو سارا انتظام اس موضع کا ہم بطور ٹھیکہ دار کے کریں گے فقط تم کو نفع دوسوپچاس روپے سالانہ دیاکریں گے اورمابقی بعدادائے مال گزاری سرکار ودیگر مصارف ہم لیں گے ہم اس کے ذمہ کارہیں اور کسی امر سے تم کو تعلق نہ رہے گا ووقت انقضائے میعاد فورًا تمہارا روپیہ ادا کردیاجائے گا اوراندرمیعاد تم اپنا روپیہ چاہوگے تو قبل چندماہ ہم کو اطلاع دیناکہ ہم یعنی زید روپیہ واپس کردیں گے اوراگراندرمیعادہم کوروپیہ مہیاہوجائے گا توہم دے کراپنی جائداد واپس لیں گے اورکسی نوع کی مداخلت تم کو حاصل نہ رہے گی یہ قول خالد ٹھیکہ دار کاہے اگرعمروشرط مذکورکے ساتھ معاملہ کرلے تو جائز ہوگایانہیں؟ درصوت عدم جواز کے کس طور سے معاملہ مذکورتوجائزہوسکتاہے؟
الجواب:
یہ صورت بیع وفاکی ہے اوربیع وفامذہب محقق ومنقح میں عین رہن ہے۔
|
فی ردالمحتار قدمنا اٰنفا عن جواھر الفتاوٰی انہ الصحیح قال فی الخیریۃ والذی علیہ الاکثر |
ردالمحتار میں ہے ابھی ابھی ہم جواہر الفتاوٰی کے حوالے سے بیان کرچکے ہیں کہ یہ صحیح ہے۔فتاوٰی خیریہ میں ہے اکثر علماء کامؤقف یہ ہے کہ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع