30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کمافی الفائدۃ الاولٰی(جیساپہلے فائدہ میں میں ہے۔ت)تووصیت اجنبی سے دودرجہ مؤخرہے جب تك وصیت مقدمہ اجنبی ادا نہ ہولے زیور زائدازمہرمثل ضرورمتروکہ ہی ٹھہرکر حساب ثلث میں محفوظ رہے گا اورشاہ محمد کومکانات واسباب کے حصہ مقدمہ میں کچھ نقصان نہ پہنچے گا بہرحال اس کے اس قول سے کسی کاکچھ ضررنہیں تواس میں اس کاکوئی مخاصم نہیں پھرقاضی کس وجہ سے اس کی تکذیب کرسکتاہے کما فی الفائدۃ الحادیۃ عشرۃ(جیساکہ گیارہویں فائدہ میں ہے۔ت)زوجہ اگر اس بیان میں سچی ہے فبہا اوراگر اس نے غلط کہاتو یہ اسی کے حق میں مضرہوا اسے صاف اختیارتھا کہ مہرکادعوی جداکرتی جس میں مہرمثل تك اس کاقول معتبررہتا اوریہ زیوربحکم وصیت جدا لیتی کہ اس میں اس کامعارض نہ تھا مگر اس نے ایسانہ کیا بلکہ اسی زیورہی کواپنے مہرمیں دیاجانابتایاتویہ اس کااپنے ہی حق میں اضرارہوا،ولہٰذا نہ دعوٰی بلکہ اقرارہوا اوربعداقرار حاجت تفتیش کیامعنی کما فی الفائدۃ المذکورۃ(جیساکہ مذکورہ بالافائدہ میں ہے۔ت)اور سب پرعلاوہ یہ کہ ادھرزوجہ نے یہی زیوراپنے مہرکے عوض بتائے ان سے جداکوئی دعوی مہرنہ رکھا ادھرشاہ محمدنے وہ تمام وکمال زیور اس کے تسلیم کرکے اسے سپرد کردئیے اب خواہ ان سب کو اس کاوہ حق مہرماناجو وصیت شاہ محمد پرمقدم رہتایا بعض کوحق مہربعض کو اوراس کے لئے وصیت یاکل کو وصیت جو وصیت شاہ محمد سے مؤخررہتی مگرجب یہ اسے نافذکرچکا اپنے حق کو ساقط کردیا جیسے وارث کہ زائد از ثلث میں وصیت اس کے حق ارث سے مؤخرہے مگروہ اجازت دے دے تو وہ مؤخرہی مقدم ہوجاتی اوراس قدرمیں اجازت دہندہ کاحق ارث ساقط ہوجاتاہے یہاں تك کہ اگر وصیت کل مال کی تھی اورسب ورثہ عاقلین بالغین نے اجازت دے دی کل مال موصی لہ کا ہوجائے گا اورکوئی وارث کچھ نہ پائے گا توعالم خاتون کا مہراورکل زیوراس کی ملك ہونا اورشاہ محمد کاضربًا یااستحقاقًا اس سے کچھ معلق ہونایہ سب مسائل طے شدہ اورفریقین کے متفق علیہ ہیں جن میں انہیں کوئی نزاع نہیں اور وہ ان کے خالص حقوق تھے جن کے ابقاء اسقاط کا انہیں اختیار مطلق تھاتواب قاضی مفتی کسی کواصلًا حق نہیں کہ ان طے شدہ امورکوزیربحث لائے ان کے لئے کوئی تفتیش اپنی طرف سے قائم کرے فریقین میں ایك کودوسرے پر اس بارے میں کوئی دعوٰی نہیں یہ خود مدعی بنے اور اس متفق علیہ کونزاعی قراردے کما فی الفائدۃ المذکورۃ ایضا(جیساکہ یہ بھی فائدہ مذکورہ میں ہے۔ت)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع