30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
فائدہ۹:وصیت جہت موصی سے تملیك ہے تو اس کے بتائے سے تجاوزنہیں کرسکتی وصیت اگرحصہ شائعہ مثل نصف مال یا ثلث متروکہ کی ہوتو توضرورترکہ باقیہ بعداداء الدین کے ہرجز میں شائع ہوگی مگراعیان معینہ کی وصیت صرف انہیں اعیان پر مقتصررہے گی ان کے غیر سے ایك حبہ نہ پاسکے گا یہاں تك کہ اگروہ اعیان ثلث مال یا اس سے بھی کم ہوں اورتمام وکمال بحکم وصیت اسے ملتے ہوں اوران میں سے کسی منازعت کے سبب کچھ کم ہوجائے تواس کی وصیت اسی کم میں نفاذپائے گی باقی ترکہ سے اس کی تکمیل نہ کی جائے گی کہ یہ ایجاب بلاموجب ہے اور وہ محض باطل ولہٰذا اگر ترکہ پندرہ سوروپے نقداورتین سوروپے کا اسباب یازمین وغیرہ ہو اوراس تمام اسباب وزمین کی وصیت زیدکے لئے کی اوراپنے مال کے ۶/۱ کی وصیت عمرو کے لئے تو مجموع ترکہ اٹھارہ سوہوا اورمجموع وصایاچھ سوکہ اس کاثلث ہے اورثلث تك وصیت بلااجازت نافذ ہے توچاہئے تھاکہ دونوں موصی لہ کی وصیت پوری نافذکرتے اسباب وزمین زیدکودے دیتے اور تین سوروپے کہ سدس مال ہے عمروکو مگرایسانہ کریں گے بلکہ عمرو کودوسوپچاس روپے نقد دیں گے اورپچیس کی قدرزمین واسباب اورباقی صرف پونے تین سوروپے کااسباب زید پائے گا زرنقد سے اس کی وصیت پوری نہ کریں گے کہ زرنقد میں اس کاکوئی حق نہ تھا اس تقسیم کی وجہ وہی ہے کہ عمرو کے لئے سدس مال کی وصیت ترکہ کے ہرجزنقدوجنس وجائداد ہرشیئ کے ۶/۱ کی وصیت ہے تو اسے پندرہ سونقدکابھی سدس چاہئے اور اسباب وزمین کابھی سدس۔سدس نقد میں اس کا کوئی منازع نہیں وہ(ماصہ)اسے دے دئیے ہیں سدس جائدادمیں زیداس کا منازع ہے وہ کہے گا کہ تمام وکمال بحکم وصیت میراہے عمروکہے گا اس میں سے بھی ۶/۱ میراہے تواس مال کا ۶/۵ زیدکے لئے بلا نزاع ہے اور۶/۱ میں زیدوعمرو متنازع ہیں توبحکم انصاف وہ ان میں نصفانصف ہوکر اسباب وزمین کا ۱۲/۱ عمروپائے گا اور ۱۲/۱۱ زید اور اس کے سوازید کونقد سے کچھ نہ ملے گا۔ردالمحتارمیں ہے:
|
لواوصی لرجل بسیف قیمتہ مثل سدس مالہ ولاٰخر بسدس مالہ ومالہ سوی السیف خمسمائۃ فللثانی سدسھا وللاول خمسہ |
اگرکوئی کسی کے لئے اپنی تلوارکی وصیت کرے جس کی قیمت اس کے کل مال کے چھٹے حصے کے برابرہے اوردوسرے شخص کے لئے اپنے کل مال کے چھٹے حصے کی وصیت کی جبکہ تلوار کے علاوہ موصی کامال پانچسودرہم ہے۔اس |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع