30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
فائدہ۷:دربارہ مہرمہرمثل تك عورت کاقول مع الیمین بلابینہ معتبرہے جبکہ زوجیت معروف ومعلوم ہو فتاوٰی خانیہ میں قبیل فصل رجوع عن الوصیۃ ہے۔
|
ان ادعت المرأۃ مقدار مھر مثلھا یدفع الیھا اذا کان النکاح ظاھرا معروفا ویکون النکاح شاھدالہا۔[1] |
اگرعورت نے مہرمثل کادعوی کیاتو اس کودیاجائے گا جبکہ نکاح ظاہرومعروف ہواورنکاح ہی اس کاشاہد ہوگا۔(ت) |
اسی کے باب الوصی پھرہندیہ میں ہے:
|
ان کان النکاح معروفا کان القول قول المرأۃ الٰی مھر مثلھا یدفع ذٰلك الیھا۔[2] |
اگرنکاح معروف ہوتوعورت کاقول مہرمثل کی حدتك مقبول ہوگا اوروہ اس کو دیاجائے گا۔(ت) |
فائدہ۸:مہربھی مثل سائردیون ہے اوردین کاتعلق مالیت سے ہے نہ عین سے ولہٰذا ورثہ کواختیار ہوتا ہے کہ دائن کادین اپنے پاس سے دے کرترکہ اپنے لئے بچالیں اگرچہ دین مستغرق ہوجس کے سبب ورثہ کے لئے ترکہ میں اصلًا ملك ثابت نہیں ہوتی۔
جامع الفصولین واشباہ میں ہے:
|
واستغرقھا دین لایملکھا بالارث الا اذا ابرأ المیت غریمہ اواداہ وارثہ[3]الخ |
اگرقرض پورے ترکہ کومحیط ہو تومیراث کے طورپرکوئی اس کامالك نہیں بنے گا سوائے اس قرض خواہ میت کوبری کردے یاکوئی وارث اس کواداکردے الخ(ت) |
اشباہ میں اس کے بعد فرمایا:
|
وللوارث استخلاص الترکۃ بقضاء الدین لو مستغرقا۔[4] |
وارث کواختیارہے کہ قرض اداکرکے ترکہ کو واگزارکرالے جبکہ قرض پورے ترکہ پرحاوی ہو۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع