30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
وکذٰلك ان مات العبد الذی کان یخدم ولوکانت قیمۃ العبید سواء کان لصاحب الخدمۃ نصف خدمۃ العبد و لصاحب الرقبۃ نصف رقبۃ الاٰخر کذا فی المبسوط۔[1] |
خدمت کرتاہے تب بھی یہی حکم ہوگا۔اگرغلاموں کی قیمت برابرہوتوصاحب خدمت کے لئے نصف خد مت اورصاحب رقبہ کے لئے نصف رقبہ ہوگا۔مبسوط میں یوں ہی ہے۔(ت) |
فائدہ ۵:یہیں سے ظاہرہواکہ جس کے لئے وصیت رقبہ ہواسے وصیت منفعت کی حاجت نہیں کہ وہ بحکم ملك مختارانتفاع ہوگا اس کے ساتھ مطلقًا یاکسی وقت خاص میں اختیار انتفاع کا ذکراسی لازم کااظہار ہوگانہ کہ اس کے لئے وصیت بالمنفعۃ جوبوجہ عدم حاجت لغووبے اثرہے جس طرح تنہاوارث غیرزوجین کے لئے وصیت کما تقدم عند الدر المختار وعن غنیۃ ذوی الاحکام (جیساکہ درمختار اورغنیہ ذوی الاحکام کے حوالے سے گزرچکاہے۔ت)
فائدہ ۶:وصیت میں مقصد موصی پرنظرلازم ہے۔ہدایہ وکافی میں دربارہ موصی لہ بخدمۃ العبد ہے:
|
لیس للموصی لہ ان یخرج العبد من الکوفۃ الا ان یکون الموصی لہ واھلہ فی غیر الکوفۃ فیخرجہ الی اھلہ للخدمۃ ھنالك اذاکان یخرج من الثلث لان الوصیۃ انما تنفذ علی مایعرف من مقصود الموصی فاذا کانوا فی مصرہ فمقصودہ ان یمکنہ من خدمتہ فیہ بدون ان یلزمہ مشقۃ السفر واذا کانوا فی غیرہ فمقصودہ ان یحمل العبد الی اھلہ لیخدمھم۔[2] |
موصٰی لہ کویہ اختیارنہیں کہ وہ غلام کوکوفہ سے نکالے ہاں اگرموصی لہ اوراس کے اہل خانہ غیرکوفہ میں رہتے ہیں تو غلام کونکال کرلے جاسکتاہے کیونکہ وصیت اس مقصود پر نافذہوتی ہے جوموصی سے معلوم ہو۔اگرموصی لہ اور اس کے اہل خانہ موصی کے شہرمیں رہتے ہیں تواب موصی لہ کا مقصود یہ ہے کہ وہ سفر کی مشقت کے لزوم کے بغیر اس کی خدمت کرسکے اوراگر وہ اس شہر کے غیرمیں رہتے ہیں تواب مقصود یہ ہوگا کہ موصی لہ اس غلام کووہاں اپنے اہل خانہ کے پاس لے جائے تاکہ یہ ان کی خدمت کرسکے۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع