30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
العبد لانسان ثم بالعبد لاٰخراواوصی بسکنی ھذہ الدار لانسان ثم بالدار لاٰخرا اوبالثمرۃ لانسان ثم بالشجرۃ لاٰخر فان ذکر موصولا فلکل واحد منھما ماسمی لہ بہ وان ذکر مفصولا فالاصل للموصی لہ بالاصل والتبع بینھما نصفان۔[1] |
شخص کے لئے کی پھرخود غلام کی وصیت کسی دوسرے کے لئے کردی یاسکونت کی وصیت کسی کے لئے کرکے پھر اسی گھرکی وصیت کسی دوسرے کے لئے کردی یاپھل کی وصیت کسی کے لئے کرکے پھردرخت کی وصیت کسی دوسرے کے لئے کر دی،اگروصیتوں کاذکرمتصلًا کیا ہے تب توہرایك کووہی ملے گاجس کااس نے نام لیااوراگردونوں وصیتوں کے ذکرمیں فاصلہ کیاتوپھرجس کے لئے اصل کی وصیت ہے اس کواصل ملے گا اورتابع ان دونوں میں نصف نصف تقسیم ہوگا۔(ت) |
تواگروصیت رقبہ اصلًا مفیدتملیك منفعت نہ ہوتی توبحال فصل تنصیف منفعت کی وجہ نہ تھی ہاں وصیت رقبہ کے بعد دوسرے کے لئے وصیت منفعت،اول کے لئے استحقاق منفعت کے لئے مانع ہوکر اس کے لئے تملیك مجرد رقبہ رہ جاتی ہے،اور جب مانع نہ ہوگا دونوں ثا بت ہوں گی،یہ وضعًا اوروہ التزامًا،کافی میں عبارت مذکورہ آنفا کے بعد فرمایا:
|
وانما تستحق ھذہ الاشیاء بملك الاصل اذالم یوجد المانع وھنا وجود المانع وھو الوصیۃ للثانی۔[2] |
ان تمام اشیاء میں ملك اصل کا استحقاق تب ہوگا جب کوئی مانع نہ ہو اوریہاں مانع موجودہے اوروہ ہے دوسرے کے لئے وصیت۔(ت) |
فائدہ۴:وصیت منفعت بمنزلہ وصیت رقبہ ہے جس شیئ کی منفعت کسی کے لئے وصیۃً قراردی گویا اسے خود وہ شیئ اس کی حیات یاایك زمانہ معین تك وصیۃً دی اوراگرایك شیئ کارقبہ زیداورمنفعت عمروکے لئے رکھی توگویا اس شیئ کی دونوں کے لئے وصیت کی زیدکے لئے مطلق اورعمرو کے لئے وقت محدود انتفاع تك ولہٰذا صاحب منفعت حساب ثلث وضرب حصص میں صاحب رقبہ کا ہمسرہوتاہے اورتنگی ثلث کے وقت اس کامزاحم ہوکراس کی وصیت کو
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع