30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
فی الضرب فی الثلاثۃ الباقیۃ فتخرج المسئلۃ من اثنی عشر۔[1] |
صرف تین حصوں میں رہ گئی لہٰذا ان تین باقی حصوں میں وہ دونوں برابرکے شریك ہیں اس لئے مسئلہ بارہ سے بنے گا۔(ت) |
فائدہ۲:جب ایك شخص کے لئے وصیت رقبہ اوراس کے بعد متصلًا خواہ برسوں کے فصل سے وصیت منفعت کی جائے توموصی لہ اول صرف مالك رقبہ ہوتاہے اوراسی قدرمیں اس کے لئے وصیت مستفادہوتی ہے منفعت میں اس کاکوئی حق نہیں ہوتا مثلًا مکان کی وصیت زیدکے لئے اور اس کے دس برس بعد سکونت مکان مذکورکی وصیت عمروکے لئے کردی توزیدصرف رقبہ مکان پائے گا سکونت تاحیات عمرویاجب تك کے لئے موصی نے کہاصرف حق عمرو رہے گی اوریہ ٹھہرے گا کہ زیدکے لئے خالی رقبہ مکان کی وصیت تھی۔ہدایہ میں فرمایا:
|
اسم الرقبۃ لایتناول الخدمۃ وانما یستخدمہ الموصی لہ بحکم ان المنفعۃ حصلت علی مبلکہ فاذا اوجب الخدمۃ لغیرہ لایبقی للموصی لہ فیہ حق۔[2] |
رقبہ کااسم خدمت کوشامل نہیں۔موصی لہ تو اس سے خدمت اس وجہ سے لیتاہے کہ منفعت اس کی ملکیت پر حاصل ہے،پس جب خدمت اس نے کسی اور کے لئے ثابت کردی تو اب موصی لہ کے لئے اس میں کوئی حق نہ رہا۔(ت) |
اسی طرح کافی میں فرمایا اوراتنااوربڑھایا:
|
وکذا اسم الدار لایتناول السکنی واسم النخیل الا یتناول الثمرۃ۔[3] |
اسی دارکااسم سکونت کواوردرختوں کااسم پھل کو شامل نہیں ہوتا۔(ت) |
عنایہ میں فرمایا:
|
وصیۃ الرقیۃ والخدمۃ فان الموصول والمفصول فیھما فی الحکم سواء۔[4] |
خدمت ورقبہ کی وصیت چاہے اکٹھے ہویا الگ الگ ہووہ حکم میں برابرہے(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع