30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
الوصیۃ فبطلت وصیتہ فی ذلك ضربا و استحقاقا عند الکل فبقی حقہ فی الثلث[1]۔ |
اس میں سب کے نزدیك ضرب واستحقاق کے اعتبارسے وصیت باطل ہوگئی لہٰذا اس کا حق تہائی میں باقی رہا۔(ت) |
نیزاسی میں عبارت اولٰی کے بعد فرمایا:
|
ان اوصی لکل واحد من الزوجۃ ولاجنبی بکل مالہ لہ سبعۃ و لھا خمسۃ لان الوصیۃ للاجنبی یقدم علی الارث فیعطی لہ الثلث من ستۃ ولہا ربع مابقی بحکم الارث بقی ثلاثۃ بینھما نصفان عند ابی حنیفۃ رحمہ اﷲ فحق الاجنبی کان فی کل المال وقد استوفی سھمین فلایضرب بذٰلك ولایضرب ایضا بما اخذت بحکم الارث وذٰلك سھم فانما یضرب بثلاثۃ والمرأۃ لاتضرب بالثلث الذی اخذ الاجنبی اولالان الوصیۃ للاجنبی بقدر الثلث وصیۃ قویۃ فتبطل وصیتھا بذلك القدر فلاتضرب المرأۃ بذٰلك ولابالسھم الذی اخذت ارثا وانما یضرب بثلاثۃ فاستویا |
اگربیوی اوراجنبی میں سے ہرایك کے لئے اپنے کل مال کی وصیت کی تواجنبی کے لئے سات اوربیوی کے لئے پانچ حصے ہوں گے کیونکہ اجنبی کے لئے وصیت میراث سے مقدم ہوتی ہے،چنانچہ اس کوچھ میں سے ایك تہائی دیاجائے گا پھر بیوی کوباقی کاچوتھائی بطورمیراث ملے گا باقی تین بچے جوان دونوں کے درمیان امام اعظم علیہ الرحمہ کے نزدیك نصف نصف ہوں گے کیونکہ اجنبی کاحق کل مال میں تھا جبکہ وہ دوحصے وصول کرچکاہے تواب ان کو وہ شامل نہیں کرے گا اور اس کوبھی شامل نہیں کیاجائے گاجوبیوی بطورمیراث لے چکی جوکہ ایك حصہ ہے چنانچہ وہ فقط تین حصوں میں شریك ہوگا اورعورت اس تہائی میں شریك نہ ہوگی جواجنبی پہلے لے چکا ہے کیونکہ وصیت تہائی مال تك اجنبی شخص کے لئے مضبوط وصیت ہے لہٰذا عورت کی وصیت اتنی مقدار میں باطل ہو جائے گی چنانچہ عورت نہ تو اس حصہ میں شراکت کرے گی اورنہ اس حصہ میں جس کوبطورمیراث حاصل کر چکی۔شراکت |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع