30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ردالمحتار میں ہے:
|
الضوائع اللقطات مثل مالا ای مثل ترکۃ لاوارث لھا اصلا،اولھا وارث لایردعلیہ،فمصرفہ المشھور اللقیط الفقیر والفقراء الذین لااولیاء لھم فیعطی منہ نفقتھم وادویتھم وکفنھم وعقل جنایتھم کما فی الزیلعی وغیرہ وحاصلہ ان مصرفہ العاجزون الفقراء[1] اھ ملتقطا۔ |
ضوائع یعنی لقطے(گِری پڑی اشیاء)پس ماتن کا قول"مثل مالا" یعنی اس ترکہ کی مثل جس کا سرے سے کوئی وارث نہ ہو یا ایساوارث ہو جس پر(بچاہواترکہ)رَدنہیں کیاجاتا۔چنانچہ اس کا مشہور مصرف وہ لقیط ہے جو محتاج ہو اور وہ فقراء ہیں جن کے لئے کوئی ولی نہ ہوں،اس میں سے ان کو خرچہ،دوائیں کفن کے اخراجات اورجنایات کی دیتیں دی جائیں گی جیساکہ زیلعی وغیرہ میں ہے۔خلاصہ یہ ہے کہ اس کا مصرف عاجز فقراء ہیں اھ التقاطًا۔(ت) |
اوریہ حکم جیسامال مسلم کے لئے ہے یونہی مال کافر کے لئے بھی،عالمگیری میں ہے:
|
من مات من اھل الذمۃ ولاوارث لہ فمالہ لبیت المال کذا فی الاختیار شرح المختار۔[2] |
ذمیوں میں سے کوئی مرگیا اور اس کاکوئی وارث نہیں تو اس کامال بیت المال میں رکھاجائے گا۔اختیارشرح مختارمیں یونہی ہے۔(ت) |
پس ایسی صورت میں وہ مال فقراء کو دے دے نہ اس نیت سے کہ اس صدقہ کاثواب اس کافرکوپہنچے کہ کافراصلًا اہل ثواب نہیں بلکہ اس وجہ سے کہ خبیث مرگیا اورموت مزیل ملك ہے تو اب وہ اس کامالك نہ رہا بلکہ حق بیت المال ہوا توفقراء کو بذریعہ استحقاق مذکوردیاجاتاہے۔واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲: ازبنارس محلہ پِزکنڈہ مرسلہ مولوی عبدالحمید صاحب ۲۵رجب المرجب ۱۳۱۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین ابقاہم اﷲ تعالٰی الٰی یوم الدین،اس میں کہ زیداکبرآباد سے چل کر شب کوتین بجے دہلی کے اسٹیشن پراُترا اوروہاں سے تین آنے کرایہ کو ایك
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع