30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
یدہ والبیع یتضمن ابطال ذٰلك فمنعوا عنہ[1]۔ (ملخّصًا) |
کے زیرقبضہ دوتہائی مکان میں مزاحمت کاحق ہے جبکہ بیع اس حق کے ابطال کو متضمن ہے لہٰذا وارثوں کوا س سے روکاجائے گا۔ملخصا(ت) |
اسی میں ہے:
|
ولواوصی لہ بخدمۃ عبدہ ولاٰخر برقبتہ وھو یخرج من الثلث فالرقبۃ لصاحب الرقبۃ والخدمۃ علیھا لصاحب الخدمۃ لانہ اوجب لکل منھا شیئا معلوما، ثم لما صحت الوصیۃ لصاحب الخدمۃ فلولم یوص فی الرقبۃ بشیئ لصارت الرقبۃ میراثا للورثۃ مع کون الخدمۃ للموصی لہ فکذا اذا اوصی بالرقبۃ لانسان اخراذ الوصیۃ اخت المیراث من حیث ان الملك یثبت فیھما بعدالموت[2]۔(ملخصًا) |
اگرایك شخص کے لئے غلام کی خدمت اور دوسرے کے لئے اس کے رقبہ کی وصیت کی درآنحالیکہ وہ تہائی مال سے نکل سکتا ہے تورقبہ صاحب رقبہ کے لئے جبکہ اس پرخدمت صاحب خدمت کے لئے ہوگی کیونکہ موصی نے ہرایك کے لئے وصیت میں کچھ معین شیئ ثابت کردی،پھرجب صاحب خدمت کے لئے وصیت صحیح ہوجائے اوررقبہ میں وہ کسی کے لئے وصیت نہ کرے تو رقبہ وارثوں کی میراث ہوگا باوجودیکہ خدمت موصی لہ کے لئے ہوگی۔اوریہی حکم ہوگااگر اس نے رقبہ کی وصیت کسی دوسرے انسان کے لئے کردی کیونکہ وصیت میراث کی بہن ہے اس حیثیت سے کہ ان دونوں میں ملك موت کے بعد ثابت ہوتی ہے۔ملخصًا(ت) |
اسی طرح اورکتب جلیلہ میں ہے اوریہیں سے ظاہرہواکہ اگردویادس مکانوں کے سکنی کی زیدکے لئے وصیت کی تواگرچہ وہ ان میں سے ایك ہی میں سکونت کرے گا جس کااسے اختیارہوگا کہ ان میں سے جس مکان میں چاہے رہے مگروہ سب مکان اس کے حق کے لئے مدت حق تك محبوس رہیں گے ورثہ یاموصی لہ بالرقبہ کوان کی بیع کا اختیارنہ ہوگاکہ اس کاحق ہرمکان میں
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع