30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
منفعت ملك موصی لہ اوردوسری صورت میں پہلاموصی لہ رقبہ شیئ کامالك ہوگا اوردوسرا اس کی منفعت کا۔بہرحال وہ شیئ بغرض انتفاع موصی لہ بالمنفعت کے قبضہ میں رہے گی ورثہ یاموصی لہ بالرقبہ کواس کی بیع کااختیارنہ ہوگا جب تك موصی لہ بالمنفعۃ کو اس سے انتفاع کاحق باقی رہے،مثلًا سال بھر کے لئے وصیت منافع کی توسال بھرتك اورموصی لہ کی زندگی تك تو اس کی حیات تک۔ ہدایہ میں ہے:
|
تجوزالوصیۃ بخدمۃ عبدہ وسکنی دارہ سنین معلومۃ وتجوزبذٰلك ابدافان خرجت رقبۃ العبد من الثلث یسلم الیہ لیخدمہ وان کان لامال لہ غیرہ خدم الورثۃ یومین والموصی لہ یوما بخلاف الوصیۃ بسکنی الداراذاکانت لاتخرج من الثلث حیث تقسم عین الدار اثلاثا للانتفاع لانہ یمکن القسمۃ بالاجزاء وھواعدل للتسویۃ بینھما زمانا وذاتا ولو اقتسموا الدارمھایاۃ تجوز ایضا لان الحق لھم، ولیس للورثۃ ان یبیعوا مافی ایدیھم من ثلثی الدار لان حق الموصی لہ ثابت فی سکنی جمیع الدار ولہ حق المزاحمۃ فیما فی ایدیھم اذا خرب مافی |
اپنے غلام کی خدمت اورگھرکی سکونت کی وصیت معین سالوں کے لئے جائزہے اوردائمی وصیت بھی جائزہے،پھراگر غلام کی گردن یعنی اس کی قیمت موصی کے تہائی مال سے نکل سکتی ہے توغلام موصی لہ کوسونپ دیاجائے گاتاکہ اس کی خدمت کرے،اوراگرموصی کاسوائے اس غلام کے کوئی اورمال نہیں تووہ غلام دودن وارثوں کی اوایك دن موصٰی لہ کی خدمت کرے گابخلاف گھر کی سکونت سے متعلق وصیت کے کہ اگرگھر تہائی مال سے نہیں نکل سکتا تواس سے نفع اٹھانے کے لئے تہائیوں کے اعتبارسے خود گھرکوتقسیم کرلیاجائے گا کیونکہ گھر کے اجزاء کی تقسیم ممکن ہے اوریہ تقسیم زمان وذات کے اعتبار سے زیادہ عدل پرمبنی ہے،اوراگر انہوں نے باریوں کے اعتبار سے تقسیم کرلیاتب بھی جائزہے کیونکہ یہ انکااپناحق ہے، وارثوں کویہ اختیارنہیں کہ وہ اپنے زیرقبضہ دوتہائی گھر کو فروخت کریں کیونکہ موصٰی لہ کے لئے تمام گھر میں سکونت کا حق ثابت ہے،جب موصی لہ کے زیرقبضہ تہائی حصہ خراب ہو جائے تواس کے وارثوں |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع