30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
افادہ ثالثہ
عالم خاتون بھی ضرور موصی لہا ہے مکانات واثاث البیت کے باب میں اس کے لئے وصیت المنفعۃ ہوناتوبدیہی اورنظربرسیاق و سباق وصیت نامہ،اس زیورکی بھی اس کے لئے وصیت ہے ابتداء وصیت نامہ میں ہے مجھ کو اپنی جائداد منقولہ وغیرمنقولہ کا انتظام ضروری ہے کہ پس ماندگان میں تکرارنہ ہو اس کاانتظام یہ ہے کہ زیورات ذیل زوجہ کو ملے گاالخ پھرمکانات واثاث البیت کے وصیت بنام شاہ محمدخاں کی جس کاحاصل یہ تقسیم ہوئی کہ وہ زیورعالم خاتون کے اورمکانات واثاث البیت شاہ محمدخاں کے۔آخرمیں لکھایہ جملہ شرائط بعدمیرے قابل تعمیل ہوں گے جب تك میں حیات ہوں کسی کاتعلق نہیں بعد میں بموجب بالاتقسیم ہوں گے صاف واضح ہوگیاکہ دونوں کے لئے تملیك بعدالموت کررہا ہے تو اس کازیورمذکورکی نسبت کہنامیری زوجہ کے ہیں ایسا ہی ہے جیسامکانات کوکہامالك شاہ محمدخاں ہے اوروارث کے لئے وصیت بلاشبہہ جائزہے جبکہ اورکوئی وارث نہ ہو،ردالمحتاربیان شرائط وصیت میں ہے:
|
وکونہ غیروارث ای ان کان ثمۃ وارث اٰخر والاتصح کمالواوصی احدالزوجین للاٰخرولاوارث غیرہ۔[1] |
اوراس کاغیروارث ہونا،یعنی جب وہاں کوئی اوروارث ہوورنہ صحیح ہے،جیساکہ زوجین میں ایك دوسرے کے لئے وصیت کرے اوراس کے علاوہ کوئی اوروارث نہ ہو(ت) |
درمختارمیں ہے:
|
لالوارثہ الاباجازۃ ورثتہ اولم یکن لہ وارث سواہ کما فی الخانیۃ حتی لو اوصی لزوجتہ اوھی لہ ولم یکن ثمۃ وارث اٰخر تصح الوصیۃ،ابن کمال[2]۔ |
وارث کے لئے وصیت جائزنہیں مگراس وقت دیگرورثاء اجازت دے دیں یاکوئی اوروارث موجودہی نہ ہوجیساکہ خانیہ میں ہے،یہاں تك اگرخاوند نے بیوی کے لئے بیوی نے خاوند کے لئے وصیت کی اوروہاں کوئی دوسرا وارث موجود نہیں تووصیت صحیح ہوگی،ابن کمال۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع