30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہی ہو اور اس کاتوکوئی قائل بھی نہیں ہے۔حاشیہ ضیاء السراج وغیرہ سے جوجزئیات علماء نے نقل کئے ہیں وہ سب متقدمین کے مذہب پرمبنی ہیں جوزیادہ تر مروج اورمشہورہے،اسی لئے ردالمحتار میں فرماتے ہیں:
|
اقول:ولم نسمع ایضا فی زماننا من افتی بشیئ من ذٰلك ولعلہ لمخالفتہ للمتون فلیتأمل لکن لایخفی ان المتون موضوعۃ لنقل ماھو المذھب وھژذہ المسئلۃ مما افتی بھا المتاخرون علی خلاف اصل المذھب۔[1] |
میں کہتاہوں ہم نے اپنے زمانے میں سنابھی نہیں کہ کسی نے ایسافتوٰی دیاہوشاید متون سے اس کے مخالف ہونے کی وجہ سے۔پس تأمل چاہئے،لیکن پوشیدہ نہیں کہ متون نقل مذہب کے لئے وضع کئے گئے ہیں،اور یہ مسئلہ ان مسائل میں سے ہے جن میں متاخرین نے اصل مذہب کے خلاف فتوٰی دیاہے۔(ت) |
بہرکیف اگرکسی صاحب کوکوئی ایسی صریح روایت مل جائے کہ فقہائے متاخرین موصی لہ بجمیع المال کے نہ ہونے کی صورت میں ردعلی الزوجین کے قائل ہیں توخاکسار اوردیگراراکین مستشار العلماء کواپنی رائے بدل دینے میں کوئی عذر نہیں ہو سکتا لیکن حضرات مفتیان نے ابھی تك اس امرکوپایہ ثبوت تك نہیں پہنچایا وہ روایات وجزئیات جن سے معلوم ہوتاہے کہ موصی لہ بجمیع المال کے ہوتے ہوئے ردعلی الزوجین نہیں ہوگا وہ بتمامہا فقہائے متقدمین کے قول پرمبنی نہیں ہے اوراس قول کے موافق اگرموصی لہ بجمیع المال موجودنہ ہوتو بھی ردعلی الزوجین نہیں ہوسکتا مجھے کسی ایسی روایت کاعلم نہیں ہے جس سے یہ ثابت ہوکہ موصی لہ بجمیع المال موجودنہ ہوتوردعلی الزوجین ہوگاورنہ نہیں،اورمیرے خیال میں یہ کسی کابھی مذہب نہیں،بہرصورت جزئیات مندرجہ فتاوٰی متعلقہ مسئلہ ہذا جن سے موصی لہ بجمیع المال کوردعلی الزوجین پرمقدم رکھاگیاہے وہ مذہب متقدمین پرمبنی ہیں نہ متاخرین پرجومتاخرین پرجومفتی بہ مذہب ہے اوراگریہ امرقطعًا ثابت ہوجائے کہ وہ مذہب متاخرین پرمبنی نہیں تو حضرات علماء ریاست کافتوی صحیح ہے مگربنظرامعان صاف معلوم ہوتاہے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع