30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
قائل ہیں۔چنانچہ وہ فرماتے ہیں:
|
والرد ضدہ(ای ضد العول)کما مر وحینئذ فان فضل عنہا ای عن الفروض والحال انہ لاعصبۃ ثمۃ یرد الفاضل علیھم بقدر سھامھم اجماعا لفساد بیت المال الاعلی الزوجین فلایرد علیھما وقال عثمان رضی اﷲ عنہ یردعلیھما ایضا قالہ المصنف وغیرہ قلت جزم فی الاختیار بان ھذا وھم من الراوی فراجعہ قلت وفی الاشباہ انہ یرد علیھما فی زماننا لفساد بیت المال وقدمناہ فی الولاء۔[1] |
ردضد ہے عول کی،جیساکہ گزرا،تواب جب فروض سے کچھ بچ جائے درانحالیکہ کوئی عصبہ وہاں موجودنہ ہوتو وہ بچاہوام ال بالاتفاق ذوی الفروض پر ان کے حصوں کے مطابق رد کیاجائے گا سوائے زوجین کے،حضرت عثمان رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے فرمایا کہ زوجین پربھی رَد کیاجائے گا،ایساہی مصنف وغیرہ نے کہاہے۔میں کہتاہوں اختیارمیں جزم کیا ہے کہ یہ راوی کاوہم ہے توتم اسی کی طرف رجوع کرو۔میں کہتاہوں اشباہ میں ہے ہمارے زمانے میں بیت المال کے فساد کی وجہ سے زوجین پررد کیاجائے گا۔اس کاذکرپہلے ہم کتاب الاولیاء میں کرآئے ہیں۔(ت) |
اگرفقہائے متاخرین کے نزدیك ردعلی الزوجین کادرجہ موصی لہ بجمیع المال کے بعد ہوتاتو حضرت عثمان رضی اﷲ تعالٰی عنہ اور مصنف صاحب اشباہ کے اختلاف کویہاں یعنی ردعلی ذوی الفروض النسبیہ کے ساتھ ملاکر بیان کی کیاضرورت تھی حضرت عثمان رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے قول پرجودلیل کتاب روح الشروح سے منقول ہے اس سے یہی صاف ظاہرہے کہ حضرت عثمان رضی اﷲ تعالٰی عنہ ردعلی الزوجین اور ردعلی ذوی الفروض النسبیہ ایك ہی درجہ پررکھتے ہیں کیونکہ اس میں رد کو عول پرقیاس کیاگیاہے اورظاہرہے کہ عول میں ذوی الفروض النسبیہ اوراحدالزوجین برابرہیں توپھر ردمیں بھی ان کوبرابرہوناچاہئے متاخرین کی طرف سے ردعلی الزوجین کی دلیل میں فساد بیت المال بیان کیاجاتاہے اس سے یہ شبہہ ہوتاہے کہ جب ترکہ کے بیت المال میں جانے کا موقعہ ہوتو اس کے فاسد ہوجانے کے باعث ردعلی الزوجین ہوناچاہئے اورجب بیت المال میں جانے کاموقعہ موصی لہ بجمیع المال کے بعد ہے تو رد علی الزوجین بھی موصی لہ بجمیع المال کے بعد ہوناچاہئے لیکن درمختار کی عبارت مسطورہ بالاسے معلوم ہوتاہے کہ اس میں رد علی ذوی الفروض النسبیہ کی دلیل سے ہی فسادبیت المال ہی کوپیش کیاہے توچاہئے کہ ردعلی ذوی الفروض النسبیہ بھی موصی لہ بجمیع المال کے بعد
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع