30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اتم واحکم۔
نقل جواب ۸
میں نے حضرات علمائے کرام کے فتاوٰی معہ کاغذات متعلقہ مسل مقدمہ کو غورسے پڑھا اوربارباربغرض تنقیح امرمتنازعیہ فیہ حوالہ جات کتب فقہ میں تدبرکیاچنانچہ حسب ذیل فیصلہ پر آگاہ ہوا،بتوفیقہ تعالٰی اس میں توکلام نہیں کہ ردعلی الزوجین میں فقہائے متاخرین کااختلاف ہے یعنی فقہائے متقدمین قطعًا ردعلی الزوجین کے قائل نہیں ہیں اورفقہائے متاخرین ردمذکور کے قائل ہیں نیزاس میں کلام نہیں کہ فتوی متاخرین کے قول پرہے چنانچہ صاحب ردالمحتارفرماتے ہیں:
|
قال فی القنیۃ ویفتی بالرد علی الزوجین فی زماننا الفساد بیت المال وفی الزیلعی عن النھایۃ مافضل عن فرض احد الزوجین یردعلیہ وکذا البنت و الابن من الرضاع یصرف الیھما وقال فی المستصفی والفتوی الیوم بالرد علی الزوجین وقال المحقق احمد بن یحٰیی بن سعد التفتازانی افتی کثیر من المشائخ بالرد علیہما اذا لم یکن من الاقارب سواھما لفساد الامام وظلم الحکام فی ھذہ الایام[1] الٰی اٰخرہ۔ |
قنیہ میں کہاکہ ہمارے زمانے میں بیت المال کے فساد کی وجہ سے زوجین پررد کافتوٰی دیاجائے گا،زیلعی میں نہایہ سے منقول ہے کہ زوجین میں سے کسی ایك کے فرضی حصہ کو وصول کرنے کے بعد جوکچھ بچ جائے وہ اسی پررد کردیاجائے گا یونہی رضاعی بیٹی اور رضاعی بیٹے کی طرف لوٹایاجائے گا۔ مستصفٰی میں کہا آج کے زمانے میں فتوی زوجین پررد کرنے کے ساتھ ہے،محقق احمدبن یحیٰی بن سعد تفتازانی نے کہا بہت سے مشائخ نے فتوٰی دیا ہے کہ زوجین پررَد کیاجائے گا جبکہ ان کے علاوہ اقارب میں سے کوئی موجودنہ ہو،کیونکہ ان دونوں میں پیشوا خراب اورحکام ظالم ہوچکے ہیں الخ۔(ت) |
اب بحث طلب بات رہ جاتی ہے کہ فقہائے متاخرین جن کے قول پرفتوی ہے ذوی الارحام مول الموالات،مقرلہ بالنسب علی الغیر،موصی لہ بجمیع المال ان چاروں کے نہ ہونے کی صورت میں ردمذکورکے قائل ہیں،صاحب درمختار کی عبارت مندرجہ ذیل سے صاف معلوم ہوتاہے کہ متاخرین ردعلی ذوی الفروض النسبیہ ہی کے درجہ میں اورانہیں کے ساتھ ردعلی احدالزوجین کے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع