30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
وہ رضامند بھی ہو قیمت لے ورنہ حسب سہامات مذکورتقسیم کرالے شرعًا قیمت لینے کے متعلق کسی فریق پر جبرنہیں ہوسکتا۔
الحاصل:تعین حصص مدعیہ ومدعی کے متعلق جواب علمائے ریاست صحیح ہے اورمستشارالعلماء لاہور صحیح نہیں ہے زیورات کے متعلق شرعی بایں تفصیل ہے کہ متوفی نے زیورات مذکورہ اگرمدعیہ کو مرض الموت سے پہلے تملیکًا دے دئیے ہیں اور وصیت نامہ کی تحریر اس کابیان ہے تووہ زیورات متوفی کے ترکہ سے خارج ہیں ان پرکوئی بارحتی کہ تجہیزوتکفین اوروصیت کا بھی نہیں ہوگا اوراگرمرض موت میں وصیت کی ہے تواگربعوض دین مہرہوتو البتہ اس صورت میں تجہیزوتکفین کے بار سے حسب حصہ زیورات مستثنٰی نہ ہوں گے بشرطیکہ مدعاعلیہ نے بلااجازت مدعیہ اپنے مال سے خرچ نہ کیاہو لیکن وصیت بالثلث کے بارسے مستثنٰی ہوں گے یعنی بعدخرچ تجہیزوتکفین باقیماندہ مال سے تمام زیورات مدعیہ کوملیں گے،اوراگربعوض دین مہرنہ ہوتوبعد تجہیزوتکفین اول دین مہراداکیاجائے گا،بعدازاں بحکم وصیت بالثلث زیورات میں سے بھی ۳ /۱ یعنی ۳ /۲ ثلث مدعا علیہ کوملے گا باقیماندہ ۳ /۲ حصہ زیورات مدعیہ کو ملیں گے،پس حکم عدم جواز وصیت صحیح نہیں اورنیزحکم بعدم جواز وصیت بالمنفعت بھی صحیح نہیں بلکہ اس کانفاذ علاوہ ثلث کے ہوگا،صورت موجودہ میں علماء انجمن مستشارالعلماء کادعوی بطلان وصیت اورجواز ردعلی الزوجین کے متعلق صحیح نہیں ہے کیونکہ رَد علی الزوجین کاتعلق اس صورت کے ساتھ جس جگہ حقوق متقدمہ سے باقیماندہ کوبیت المال کے لیے قرار دیا ہے اور جس صورت میں حقوق تمام ترکہ کو مستغرق ہوں اور بیت المال تك نوبت نہ پہنچے جیساکہ وہاں بیت المال کے لئے کچھ نہیں باقی رہا توردعلی الزوجین کاحکم ہرگزنہیں ہوسکتاکیونکہ بحکم مقدمہ خامسہ ردعلی الزوجین کے جوازکاحکم ہرگزنہیں ہوسکتا بیت المال کے فساد کے ساتھ مشروط ہے اگربیت المال منتظم موجودہوتوردعلی الزوجین نہیں ہوسکتا لہٰذ حکم ردعلی الزوجین حکم تفویض بیت المال سے بھی مؤخرہوا صورت موجودہ میں،اور فرض زوجہ تمام باقیماندہ ترکہ کومستغرق ہیں باقی ماندہ ترکہ کاکوئی فرد ان حقوق متقدمہ کے بعد باقی نہیں رہتا، پس نہ تفویض بیت المال کاحکم ہوسکتاہے نہ ردعلی الزوجین کا۔پس یہ بحث اس جگہ نہایت تعجب انگیز ہے،چنانچہ اس کی تشریح اورتردید اپنی تحریر مندرجہ مسل کافی طورپرکردی ہے اپنی دوسری تحریر میں ایك نوٹ لکھتے ہیں جن کاخلاصہ یہ ہے کہ واحد بخش نے شاہ محمد کوحفاظت جائداد کی وصیت کی ہے،نہ تملیك کی،لہٰذا وہ وصی ہے نہ موصی لہ چونکہ اس کی تردید علمائے ریاست نے کافی طورپر فرمائی ہے لہٰذا ہم کو اس کے متعلق کچھ لکھنے کی ضرورت نہیں ہے فقط واﷲ اعلم وعلمہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع