30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
علی الثلث یعنی اذاکان ھناك وارث یجوز ان یستحق جمیع المیراث اما اذاکان لایستحق المیراث اما اذا کان لایستحق جمیع المال کالزوج والزوجۃ فانہ یجوز ان یوصی بمازاد علی ذٰلك ولایمنع من ذٰلك استحقاقھما مایرثانہ لانھما یستحقان سھما من المیراث لایزاد علیہ بحال فمازاد علی ذٰلك فھو مال المریض لاحق فیہ لاحد فجاز ان یوصی بہ و علی ھذا قال محمد رحمہ اﷲ اذاترکت المرأۃ زوجا ولم تترك وارثا غیرہ واوصت لاجنبی بنصف مالھا فالوصیۃ جائزۃ ویکون للزوج ثلث المال وللموصی لہ النصف وبقی السدس |
جوہرہ میں اس کی شرح میں کہاتہائی مال سے زائد کی وصیت جائزنہیں اگر وہاں کوئی ایساوارث موجود ہوجوکل مال کا وارث بن سکتاہے لیکن جوکل مال کامستحق نہیں بن سکتا جیسے خاوند اوربیوی تووہ تہائی مال سے زائد کی وصیت کرسکتا ہے۔ اورزوجین جس حصہ میراث کے مستحق ہیں وہ اس سے مانع نہیں کیونکہ وہ میراث کے ایك خاص حصہ کے وارث ہوتے ہیں اس پرکسی حال میں اضافہ نہیں ہوتا،جو اس سے زائد ہے وہ مریض کامال ہے اس میں کسی کاحق نہیں لہٰذا جائزہے کہ وہ اس کی وصیت کرجائے۔امام محمدعلیہ الرحمۃ نے فرمایا اگر کوئی عورت خاوند کے علاوہ کوئی وارث نہ چھوڑے اورکسی اجنبی شخص کے لئے نصف مال کی وصیت کرجائے تووصیت جائزہوگی۔اس صورت میں شوہر کوایك تہائی اوروصیت والے شخص کو نصف مال ملے گا۔باقی رہا چھٹاحصہ وہ بیت المال کاہے۔اورشوہرکے لئے کل کاتہائی حصہ اس لئے ملے گا کہ شوہر وصیت کامال نکالنے کے بعد ہی میراث کامستحق ہوگا۔چنانچہ پہلے وصیت والے شخص کے لئے کل مال سے تہائی حصہ بطور وصیت نکالنے کی ضرورت ہے کیونکہ وہ شخص ہرحال میں اس کامستحق ہے باقی دوتہائی مال بچاتو شوہراس دوتہائی میں سے نصف یعنی ایك تہائی کابطور میراث مستحق ہوگا۔باقی ایك ثلث بچ گیا اس میں سے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع