30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
اوصت لہ بالنصف،ثم قال،وانما قیدوا بالزوجین لان غیرھما لایحتاج للوصیۃ لانہ یرث الکل برد او رحم [1]،قال العلامۃ ابن عابدین فی ردالمحتار فاذا اوصی بما زاد عل الثلث ولم یکن الاوارث یردعلیہ و اجازھا فالبقیۃ لہ وان اجاز من لایرد علیہ ففرضہ فی البقیۃ وباقیھا لبیت المال،فلواوصی بثلثی مالہ و اجازت الزوجۃ فلھا ربع الثلث واحد من اثنی عشر مخرج الثلثین وربع الباقی،ولبیت المال ثلثۃ ولزید ثمانیہ و ان لم تجزواوصی لہا ایضا اولافقد اوضحہ فی الجوھرۃ فراجعھا [2]۔قال فی الجوھرۃ فی شرحہ ولا یجوز مازاد |
عورت نے اس کے لئے نصف مال کی وصیت کی ہو،پھرکہاکہ مشائخ نے زوجین کے ساتھ قیدلگائی ہے کیونہ ان دونوں کے علاوہ جو ورثاء ہیں انہیں وصیت کی محتاجی نہیں اس لئے وہ رد یارشتہ داری کی وجہ سے کل کے وارث بن جاتے ہیں۔علامہ ابن عابدین نے ردالمحتارمیں کہا اگرتہائی سے زائد کی وصیت کی اور اس کاصرف ایك ایساوارث موجودہے جس پرردکیا جاتاہے اوراس نے وصیت کی اجازت دے دی تو باقی مال اس کاہے۔اوراگرایسے وارث نے اجازت دی جس پررَد نہیں کیا جاتا تو اس کافرضی حصہ باقی سے نکال کرجوبچ گیاوہ بیت المال میں رکھاجائے گا۔اگرکسی نے دوتہائی مال کی وصیت کی اور اس کی بیوی نے اجازت دے دی توبیوی کو ایك تہائی کاچوتھا حصہ ملے گا جوکہ بارہ میں سے ایك بنتاہے اوربارہ مخرج ہے دوتہائی اورباقی کی چوتھائی کا۔چنانچہ بارہ میں سے بیت المال کے لئے تین اور زیدجس کے لئے وصیت کی گئی تھی کے لئے آٹھ حصے ہوں گے۔اوراگربیوی نے اجازت نہ دی حالانکہ یہ پہلے اس کے لئے بھی وصیت کرچکا ہے تواس کو جوہرہ میں خوب واضح کیاہے اسی کی طرف رجوع کرو، |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع