30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تمام مال میں سے ربع یانصف حصہ احدالزوجین نکالاجائے گا اورمابقی بعداحدالزوجین کل یاجز موصی لہ کوبقدروصیت دیا جائے گااوربعدازاں اگرکچھ باقی رہے گاتوبیت المال میں داخل کیاجائے گا تووصیت بثلث المال اس مال کی وصیت سے مقدم ہے جومال ثلث کے بعد باقی رہاہے اور اس کی بھی یہی وصیت کی گئی ہے زوجین کےلئے عدم جواز وصیت کابھی مشروط بایں شرط ہے کہ کوئی دوسراوارث موجودہو۔اوراگردوسراکوئی وارث موجودنہ ہوتو احدالزوجین کی وصیئت للآخرصحیح ونافذ ہے، حاصل یہ کہ زوجین کی وصیت سے مانع مزاحمت حق ورثہ ہے اگریہ نہ ہوتو پھرکوئی مانع نہیں خواہ وہ وصیت بالرقبہ ہویا بالمنفعت۔
|
قال فی ردالمحتار والاتصح کما لو اوصی احدالزوجین للاٰخر ولاوارث غیرہ۔[1] |
ردالمحتارمیں کہاورنہ صحیح ہے جیساکہ خاوندبیوی میں سے کوئی ایك دوسرے کے لئے وصیت کرے اوراس کے علاوہ وارث موجودنہ ہو۔(ت) |
ردعلی الزوجین کاحق بیت المال سے اضعف ہے لفساد بیت المال۔اشباہ میں ہے:
|
انہ یردعلیھما فی زماننا لفساد بیت المال[2]۔ |
ہمارے زمانے میں بیت المال کے فاسد ہوجانے کی وجہ سے زوجین پررَد کیاجائے گا۔(ت) |
ردالمحتامیں ہے:
|
قال فی القنیۃ ویفتی بالرد علی الزوجین فی زماننا لفساد بیت المال[3]۔ |
قنیہ میں کہاکہ ہمارے زمانے میں بیت المال کے فساد کی وجہ سے زوجین پرردکافتوی دیاجائے گا۔(ت) |
پس اگربیت منتظم ہے تومستحقین سے باقیماندہ مال بیت المال میں داخل کیاجائے گا اور اگربیت المال نہیں ہے یاہے اورمنتظم نہیں ہے اوراندیشہ ہے کہ وکیل بیت المال سے اس مال کوبیت المال میں داخل نہ کرے اوراپنے اوراپنے خدام کے صرف میں لائے تواس صورت میں ضرورۃً زوجین پر حسب فتوٰی متاخرین ردکیاجائے گا اوربعدتمہید مقدمہ مذکورہ اس استفتاء کاصحیح جواب
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع