30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
نقل جواب۷
حامدًا ومصلیًا نے کاغذ مندرجہ مسل مقدمہ استفتاء عدالت وصیت نامہ فتوٰی علمائے لاہور،فتوٰی علمائے ریاست دیکھے جواب استفتاء چندمقدمات کی تمہید پرموقوف ہے جومسلم فقہ میں مبین ومبرہن ہے۔
تمہید،میت کے ترکہ میں سے سب سے مقدم جمیع مال سے خرچ تجہیزوتکفین ہے اس کے بعد مابقی میں سے ادائے دیون اس کے بعد مابقی میں سے تنفیذوصیت بالثلث اس کے بعد مابقی کی تقسیم علی فرائض اﷲ،وصیت زائد علی الثلث اس وقت نا جائزہے جبکہ متضمن ابطال حق ورثہ ہو،اوراگرورثہ مال متروکہ کے متعلق نہ ہومثلًا کوئی وارث موجودنہ ہو،یاوار موجودہو اور ابطال حق نہ ہو،یاورثہ اپنے اضرار اورابطال حق کو قبول کرلیں تو وہ وصیت زائد علی الثلث جائزونافذہوگی۔
|
قال فی الجوھرۃ لان الامتناع لحقھم فیجوز باجازتھم [1]،وقال العلامۃ ابوالسعود فلولم یکن وارث ولوحکما صحت الوصیۃ بالکل لان المانع من الصحۃ تعلق حق الوارث[2]،وقال فی فتح القدیر فالوصیۃ بالزیادۃ علی الثلث تتضمن ابطال حقھم وذٰلك لایجوز من غیر اجازتھم۔[3] |
جوہرہ میں کہا اس لئے کہ ممانعت وارثوں کے حق کی وجہ سے ہے لہٰذا ان کی اجازت سے جائزہوجائے گی۔علامہ ابوالسعود نے کہااگرکوئی وارث موجودنہ ہو۔اگرچہ حکمی طورپرتوکل مال کے ساتھ وصیت صحیح ہوگی کیونکہ صحیح ہونے سے رکاوٹ توحق وارث کا اس سے متعلق ہونا ہے۔فتح القدیر میں کہاتہائی سے زائد کی وصیت وارثوں کے حقوق کے ابطال کو متضمن ہے اور وہ ان کی اجازت کے بغیرجائزہیں ہے۔(ت) |
اگر زائد علی الثلث اجنبی کووصیت کی اورصرف احدالزوجین وارث موجودہے اوراس نے اس وصیت کوقبول نہ کیا تو اس کااثر صرف اسی قدر ہوگاکہ اول ثلث بطوروصیت نکال کرباقیماندہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع