30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
ذٰلك الفاضل علیھم بقدرسھامھم اجماعًا لفساد بیت المال الاعلی الزوجین فلایردعلیھما،وقال عثمان رضی اﷲ عنہ یردعلیھما ایضا قالہ المصنف وغیرہ قلت وجز فی الاختیار بان ھذا وھم من الراوی فراجعہ قلت وفی الاشباہ انہ یردعلیھما فی زماننا لفساد بیت المال۔[1] |
ذوی الفروض پران کے حصوں کے مطابق لوٹادیاجائے گا کیونکہ بیت المال میں فسادآچکا ہے،مگرزوجین پررَدنہیں کیا جائے گا،عثمان رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے فرمایاکہ زوجین پربھی رد کیاجائے گا۔مصنف وغیرہ نے یونہی کہاہے،میں کہتاہوں اختیار میں یقین کیاہے کہ یہ راوی کاوہم ہے تواس کی طرف رجوع کر۔میں کہتاہوں اشباہ میں ہے کہ ہمارے زمانے میں بیت المال کے فاسدہوجانے کی وجہ سے زوجین پر ردکہاجائے گا۔(ت) |
کتاب ردالمحتارمیں ہے:
|
قولہ وفی الاشباہ الخ قال فی القنیۃ ویفتی بالرد علی الزوجین فی زماننا لفسادبیت المال وفی الزیلعی عن النھایۃ مافضل عن فرض احد الزوجین یردعلیہ و کذا البنت والابن من الرضاع یصرف الیھما وقال فی المستصفی والفتوی الیوم بالرد علی الزوجین وھو قول المتاخرین من علمائنا وقال الحدادی الفتوی الیوم بالرد علی الزوجین وقال المحقق احمدبن یحٰیی بن سعد التفتازانی افتی |
مصنف کاقول"الاشباہ میں ہے"قنیہ میں کہاکہ ہمارے زمانے میں بیت المال کے فساد کی وجہ سے زوجین پر رَدکافتوٰی دیاجاتاہے۔زیلعی میں نہایہ سے منقول ہے کہ زوجین میں ایك کے فرضی حصہ قبول کرنے کے بعد جوبچ جائے وہ اسی پر رَدکردیاجائے گا۔یونہی رضاعی بیٹی اور رضاعی بیٹے کی طرف رَد کردیاجائے گا۔مستصفٰی میں کہاکہ آج کے دورمیں زوجین پرردکافتوی ہے اوریہ ہی ہمارے متاخرین علماء کاقول ہے، حدادی نے کہا آج کے دورمیں زوجین پر رَدکا فتوٰی ہے۔محقق احمدبن یحیٰی بن سعد تفتازانی نے کہاکہ بہت سے مشائخ نے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع