دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 25 | فتاوی رضویہ جلد ۲۵

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۲۵

کے من حیث الارث دے دیاگیا تواب واحدبخش کے ترکہ میں سے ۱ /۳ یعنی آدھا ترکہ باقی رہ جاتاہے اب سوال یہ ہے کہ باقی ترکہ کس کو دیاجائے،شاہ محمد کویاعالم خاتون کو؟

یہ مسلم الثبوت مسئلہ ہے کہ اگرحصہ داروں کوجس میں کوئی عصبہ نہ ہو ان کے مقرری حصہ دینے کے بعد ترکہ میں سے کچھ بچ جائے تو وہ بھی حصہ داران پربحصہ رسدی ردکردیاجائے لیکن حصہ دار دوقسم کے ہوتے ہیں،ایك وہ حصہ دارجومتوفی کے برادری کے ہیں مثلًا متوفی کی دختر،اس کی ماں،اس کی ہمشیرہ وغیرہ۔دوسرے وہ حصہ دارہیں کہ جن سے صرف نکاح کاتعلق ہے یعنی وہ متوفی کاشوہر ہے اگرمتوفی عورت ہو یاوہ متوفی کی بیوہ ہواگرمتوفی مردہوائمہ متقدمین کایہ مذہب ہے کہ وہ بچاہواترکہ پہلے ہی قسم کے حصہ داران پررَد کیاجائے گا اوردوسرے قسم کے حصہ داران پریعنی شوہریابیوہ پر اس کارد نہیں ہوگا اوردرصورتیکہ صرف دوسرے ہی قسم کے حصہ دارہوں ہوگے اور بچاہواترکہ بہ ترتیب ان کو دے دیاجائے گا جورد کے درجہ کے بعد والے ہیں مثلًا ذوی الارحام کو اور ذوی الارحام بھی نہ ہوں تو مولی الموالات اور مولی المولات بھی نہ ہو ں تو مقرلہ النسب پر غیرکومقر لہ النسب پر ، غیر بھی نہ ہوں  توموصی لہ بالزائد علی الثلث کو،موصی لہ بالزائد علی الثلث بھی نہ ہو یا اسے دے کربھی کچھ بچ رہے توبیت المال کودیں گے،علمائے علاقہ بہاولپور نے بزارمیں جونقل فرمائے ہیں وہ اس مذہب متقدمین کے موافق ہیں مگرائمہ متاخرین فرماتے ہیں کہ بچاہوا ترکہ جس طرح پہلے قسم کے حصہ داران پربحصہ رسدی ردہوسکتاہے اسی طرح دوسرے قسم کے حصہ داران پربھی رد ہوسکتاہے اوراگرمتوفی کاکوئی رشتہ دارموجودنہ ہوتوجوکچھ بچاہواترکہ ہو وہ احد الزوجین یعنی شوہر کودرصورتیکہ متوفی عورت ہویاعورت کودرصورتیکہ متوفی مرد ہودے دیں گے۔یہی قول حضرت عثمان بن عفان رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے منقول ہے،اور اسی قول متاخرین پرفتوٰی دیاگیاہے،پس اس مفتی بہ قول کے موافق واحدبخش متوفی کے ترکہ میں ہے جو ۴ /۳ یعنی آدھی جائداد عالم خاتون کوبحیثیت رَد کے ملے گی اور ۶ /۱ اس کو بحیثیت میراث کے پہلے ہی مل چکی ہے توظاہرہے کہ عالم خاتون کو اس کے شوہر کے ترکہ میں سے ۶ /۴ یا ۳ /۲ مل جائے گی اورشاہ محمدموصی لہ صرف وصیت کی حیثیت سے ۳ /۱ حقداررہے گا،اب ہم وہ روایتیں نقل کئے دیتے ہیں جن سے متاخرین کے ردعلی الزوجین کا قائل ہوناہواورپھراس کا مفتی بہ ہوناثابت ہو۔کتاب درمختارمیں ہے:

فان فضل عنھا ای عن الفروض والحال انہ لاعصبۃ ثمۃ یرد

اگرمیت کاترکہ فروض سے بچ جائے درانحالیکہ کوئی عصبہ موجودنہ ہوتووہ بچاہوامال پھر

 


 

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن