30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
ان یجیزھا الورثۃ بعد موتہ وھم کبار لان الامتناع لحقھم وھم اسقطوہ۔[1] |
یہ کہ دیگرورثاء موصی کی موت کے بعد اس کی اجازت دے دیں اوروہ ورثاء بالغ ہوں،کیونکہ ممانعت ان کے حق کی وجہ سے ہے اورانہوں نے اپناحق ساقط کردیاہے۔(ت) |
چونکہ مسئلہ زیرکتب زیربحث میں متوفی واحدبخش کی بیوہ موجودہے جو اس کی وارث ہے اس لئے جس قدر وصیت ترکہ کے ۳ /۱ حصہ سے زیادہ ہے بغیراجازت عالم خاتون بیوہ متوفی کے نافذ نہیں ہوسکتی،ادائے وصیت کے بعد جس قدرجائداد بچے اس میں سے ۴ /۱ حصہ یعنی چہارم حصہ کی جواصلی ترکہ کا ۶ /۱ یعنی چھٹاحصہ ہوتاہے،عالم خاتون بیوہ واحدبخش کاحق ہے۔ کتاب سراجی میں ہے:
|
یبدأ بتکفیہ وتجھیزہ بلاتبذیر ولاتقتیر ثم تقضی دیونہ من جمیع مابقی من مالہ ثم تنفذ وصایا من ثلث مابقی بعد الدین ثم یقسم الباقی بین ورثتہ بالکتاب والسنۃ واجماع الامۃ۔[2] |
ابتداء میت کی تجہیز وتکفین سے کی جائے گی نہ تواس میں فضول خرچی اورنہ ہی ضرورت سے کمی کی جائے گی،پھرجوباقی بچا اس تمام سے میت کے قرضے اداکئے جائیں گے،پھرقرض کی ادائیگی کے بعد بچ جانے والے مال کی تہائی سے میت کی وصیتیں نافذ کی جائیں گی،پھرجوباقی بچا اسے کتاب وسنت اور اجماع کے مطابق وارثوں میں تقسیم کیاجائے گا۔(ت) |
نیزکتاب مذکورمیں ہے:
|
للزوجات حالتان الربع للواحدۃ فاعدۃ عند عدم الولد اوولد الابن وان سفل[3]۔ |
بیویوں کی دوحالتیں ہیں،اگرمرحوم خاوند کی اولادیا اس بیٹے کی اولاد نیچے تك کوئی نہ ہو تو ان کوکل مال کاچوتھائی حصہ ملتا ہے چاے ایك بیوی ہویامتعدد۔(ت) |
جب ترکہ میں سے ۳ /۱ حصہ یعنی تیسرے حصہ من حیث الوصیۃ اور ۶ /۱ یعنی چھٹاحصہ عالم خاتون
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع