30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
وعلی ھذا اذا ترك زوجۃ لاوارث لہ غیرھا واوصی لرجل بجمیع مالہ کان لھا سدس وللموصی لہ خمسۃ اسداس لانھا لاتستحق من المیراث شیئا حتی یخرج الثلث للوصیۃ فاذا اخرج الثلث استحقت ربع الباقی ومابقی بعد ذٰلك یکون للموصی لہ بالجمیع واصلہ من اثنی عشر للموصی لہ اربعۃ وھو الثلث یبقی الثلثان،ثمانیۃ للزوجۃ ربعھا اثنان یبقی ستۃ تعودللموصی لہ،فیکون لہ عشرۃ من اثنی عشر وذٰلك خمسۃ اسداسھا جوھرۃ النیرۃ[1] شرح قدوری،وھٰکذا فی فتاوی الھندیۃ وردالمحتار والدر المختار وھذہ الکتب من معتبرات الحنفیۃ،وان لم تجز واوصی لھا ایضا اولافقد اوضحہ فی الجوھرۃ فراجعھا وردالمحتار فی قولہ لاالزیادۃ علیہ[2] الخ۔ |
اسی بنیاد پر اگرکسی نے بیوی کے علاوہ کوئی وارث نہ چھوڑا اورکسی مرد کے لئے کل مال کی وصیت کرگیا توبیوی کوکل مال کاچھٹا(۶/۱)حصہ اور وصیت والے مردکو باقی پانچ چھٹے ملیں گے اس لئے کہ جب تك کل مال سے تہائی حصہ بطور وصیت نہ نکال لیاجائے اس وقت تك بیوی میراث میں سے کسی شیئ کی مستحق نہیں اور جب تہائی حصہ نکال لیاگیا توباقی کے چوتھائی کی مستحق ہوگی،پھرجوباقی بچ گیا وہ کل مال کی وصیت والے شخص کوملے گا،اس کی اصل بارہ سے ہے یعنی کل مال کے بارہ حصے بنائے جائیں گے جن سے ایك تہائی یعنی چارحصے بطوروصیت وصیت والے شخص کوملیں گے باقی دو تہائی یعنی دوحصے بیوی کوملیں گے پھرجوچھ باقی بچ گئے وہ وصیت والے شخص کی طرف لوٹ جائیں گے تو اس طرح وصیت والے شخص کوبارہ میں سے دس حصے مل گئے جوکہ چھ میں سے پانچ ۶/ ۵ ہوئے(جوہرہ نیرہ شرح قدوری) ایسا ہی فتاوٰی ہندیہ،ردالمحتار اور درمختارمیں ہے جوکہ فقہ حنفی کی معتبرکتابیں ہیں،اوراگربیوی نے اجازت نہ دی جبکہ اس نے پہلے اس کے لئے بھی وصیت کی تھی اس کی وضاحت جوہرہ میں ہے اسی کی طرف رجوع کرناچاہئے،یہ بات شامی میں ماتن کے قول"لاالزیادۃ علیہ"کے تحت مذکورہے الخ(ت) |
اورصاحبان انجمن مستشارالعلماء لاہورنے نے اس صورت موجودہ میں ۳ /۱ حصہ یعنی سوم حصہ مدعاعلیہ کابتایا جوموصی لہ تھا اور۳ /۲ حصہ یعنی دوثلث حصہ مدعیہ کابتایا یہ اثربے غوری اورکمال بے توجہی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع