30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
شرعی مدعیہ کے ماسوائے مدعاعلیہ کوملے جو موصی لہ ہے جیساکہ جواب سوال۲ میں ہرایك کاحق ظاہرکیاجائے گامدعیہ نے اس وصیت پراعتراض کیا اس شرعًا جائدادمتوفی میں سے مدعیہ وارث شرعیہ کو ۶ /۱ حصہ ملناچاہئے مدعیہ وارث شرعی ہے اس کے حق میں وصیت نہ سمجھی جائے اس لئے کہ وارث شرعی کے واسطے وصیت ناجائزہے بلکہ یہ زیورات حق مہر کے عوض سمجھے جائیں جیساکہ خودمدعیہ کاقول ہے اور خودعبارت وصیت نامہ کی متحمل قوی یہ ہے اورحق مہردین ہوتاہے اس ئے وصیت اورارث دونوں سے مقدم ہے مدعاعلیہ موصی لہ کاتعلق ان زیورات کے ساتھ نہ سمجھاجائے ماسوائے زیورات کے کل جائداد میں ہرفریق کواپنااپنا حصہ ملے گا جیساکہ بالاتشریح ہوچکی ہے اخراجات تجہیزوتکفین کابارحصہ مدعاعلیہ پرجو اس نے اپنے اختیار سے اپنے مال سے خرچ کیاہے،صرف خرچ کرنے دفن میت کاچھ سات روپیہ تك آخردس روپیہ تك اس کابار فریقین پر ہے اس قدرسے زیادہ خرچ کابارخرچ کرنے والے پرہے،بعد وفات متوفی کے مدعیہ کاحق سوائے چہارم مابقی من الدین والوصیۃ کے کوئی حق رہائش مکان ونان نفقہ وغیرہ کانہیں ہے صورت متنازعہ میں مال متوفی منقولہ وغیرمنقولہ سےاگرمدعیہ کو(۶ /۱) حصہ تقسیم کرکے بطورتملیك قطعی دے دیاجائے توحق سے اس کے پورے ہوچکے اس میں کوئی اثرنہیں ہے۔شرعًا ظروف وغیرہ کابھی بلحاظ سوال نمبر۲۔ ۶ /۱ حصہ مدعیہ کوتقسیم کرکے دے دیاجائے فوت ہونے متوفی کے بعد مال متروکہ متوفی کاعلی حسب حصص شرعی جبرًا تملیك ورثاء باقیماندہ کے ہوجاتاہے بعد فوتیدگی صرف تقسیم کرنے متروکہ کے حاجت ہوتی ہے اس صورت میں مدعیہ کواختیارہے اگرچاہے ہرحصہ سے ۶ /۱حصہ بجنسہٖ لے سکتی ہے اگرباختیار خود اپنے حصہ ۶ /۱ فریق ثانی سے لے لے توکچھ مضائقہ نہیں۔
|
الاٰن نکتب الروایات الفقھیۃ عن المعتبرات الحنفیۃ وفی فتاوی النوازل اوصی لرجل بکل مالہ و مات ولم یترك وارثا الاامرأتہ فان لم تجزفلھا السدس والباقی للموصی لہ لان لہ الثلث بلااجازۃ فبقی الثلثان فلھا ربعھما وھو سدس الکل درمختار[1] |
اب ہم احناف کی معتبرکتابوں سے فقہی روایات تحریر کرتے ہیں۔فتاوٰی نوازل میں ہے کوئی شخص کل مال کی وصیت کسی مردکے لئے کرکے مرگیا اورسوائے بیوی کے کوئی وارث نہیں چھوڑا،اگربیوی نے اس وصیت کی اجازت نہ دی تو اس کوکل مال کاچھٹا حصہ ملے گا اورباقی موصی لہ کوملے گا کیونکہ وہ ثلث کابغیر اجازت حقدار ہے باقی دوثلث بچے جن میں سے بیوی چوتھائی کی حقدار ہے جبکہ یہ چوتھائی کل کاچھٹاحصہ ہے،در مختار۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع