30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سارے فریق ردعلی الزوج سے مقدم ہیں۔
|
ثم رد علی ذوی الفروض النسبیۃ بقدر حقوقھم ثم ذوی الارحام ثم بعدھم مولی الموالاۃ کما مر فی کتاب الولاء ولہ الباقی بعد فرض احدالزوجین ثم المقرلہ بنسب علی غیرہ لم یثبت فلوثبت حقیقۃ و زاحم الورثۃ ثم بعدھم الموصی لہ بمازاد علی الثلث و لوبالکل ثم یوضع فی بیت المال ۱۲درمختار۔[1]
قولہ ثم ذوی الارحام ای یبدأ بھم عند عدم ذوی الفروض النسبیۃ والعصبات فیاخذون کل المال اوما بقی عن احدالزوجین لعدم الرد علیھما ۱۲ شامی[2]۔
قولہ ولہ الباقی ای ان لم یوجد احد ممن تقدم فلہ کل المال الا ان وجد احد الزوجین |
پھرنسبی ذوی الفروض پران کے حقوق کے مطابق ردکرنا پھر ذوی الارحام پھران کے بعد مولی المولاۃ۔جیساکہ کتاب الولاء میں گزرا۔اوراس کو زوجین میں سے ایك کا فرضی حصہ نکالنے کے بعد جوباقی بچے گا وہ ملے گا۔پھروہ خص جس کے لئے کسی غیرپرنسب کااقرار کیاگیاہو اورنسب ثا بت نہ ہوااور اگرحقیقۃً اس کانسب ثابت ہوگیا تو وہ وارثوں میں شریك ہوجائے گا۔پھران کے بعد وہ شخص جس کے لئے تہائی سے زائد کی وصیت کی گئی ہو اگرچہ کل مال کی ہو پھربیت المال میں رکھا جائے گا۔(درمختار)۔(ت) ماتن کاقول"پھرذوی الارحام"اس کامطلب یہ ہے کہ ذوی الارحام سے ابتداء ہوگی جبکہ نسبی ذوی الفروض اورعصبات نہ ہوں تو وہ ذوی الارحام کل مال لیں گے یا وہ مال لیں گے جو زوجین میں سے ایك کے فرضی حصہ وصول کرنے کے بعد باقی رہ جائے کیونکہ زوجین پردنہیں ہوتا ۱۲ شامی(ت) ماتن کاقول کہ"اس کے لئے باقی ہے"یعنی اگر ماقبل میں مذکور افراد میں سے کوئی موجود نہ ہوتو کل مال اسی کاہے مگرجب زوجین میں سے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع