30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
وان کان احدالزوجین فالباقی لہ وان کان وارث غیرھما فللموصی لہ الثلث۱۲شیخ الاسلام[1] ضیاء السراج السراجی۔ وفی المستصفٰی والفتوی الیوم علی الرد علی الزوجین عند عدمہ المستحق لعدم بیت المال ۱۲شامی[2] تحت قولہ وفی الاشباہ والفتوی الیوم بالرد علیھما اذا لم یکن للباقی مستحق لان الظلمۃ لایصرفون مال بیت المال الی مصرفہ مستصفٰی۔[3] |
ضرر کی وجہ سے تھی اور وہ یہاں منتفی ہے۔اور اگر زوجین میں سے کوئی ہے توباقی اس کو دیں گے۔اوراگران دونوں کے علاوہ کوئی وارث ہے توپھرجس کے حق میں کل مال کی وصیت ہے اس کوایك تہائی دیں گے ۱۲شیخ الاسلام ضیاء السراج السراجی۔مستصفٰی میں ہے آج کل فتوٰی زوجین پر لوٹانے کے ساتھ ہے جبکہ کوئی اورمستحق موجودنہ ہو بیت المال کے نہ ہونے کی وجہ سے ۱۲شامی تحت قولہ وفی الاشباہ۔اورفتوٰی آج کل زوجین پرلٹانے کاہے جبکہ باقی کاکوئی اورمستحق موجودنہ ہو اس لئے کہ ظالم حکمران بیت المال کے مال کو اس کے مصرف میں خرچ نہیں کرتے(مستصفٰی)(ت) |
جونقل مستصفٰی کامفتی صاحب نے شامی سے تحت قولہ وفی الاشباہ لکھاہے معلوم ہوتاہے کہ تمام قول کو اول سے آخرتك نہیں دیکھااگردیکھتے اورغورکرتے توعند عدم المستحق کی قیدضرور ساتھ لگاتے جو اس قول میں درج ہے اورہرجگہ رَد ہے صرف ناتمام جزئ نقل کرکے خوش ہورہے ہیں نقل میں ماقبل اورمابعد کے لحاظ چاہئے تاکہ نقل صحیح اورتمام ہونہ کہ ناقص اورغلط،ہاں اگر دیدہ ودانستہ دیکھ کرنہیں لکھا توسفسطہ اورمکابرہ ہے۔
|
ولیستوضح لك معنی المستحق ویاتیك تحقیقہ عنقریب ان شاء اﷲ تعالٰی۔ |
اورتیرے لئے مستحق کے معنی کی وضاحت کرتے اوراس کی تحقیق آرہی ہے عنقریب ان شاء اﷲ تعالٰی۔(ت) |
اب توجہ فرمائیے کہ یہ فریق ایك دوسرے کے عدیل اورردیف ہیں سوائے بیت المال کے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع