30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کہ لفساد بیت المال(بیت المال کے فاسد ہونے کی وجہ سے۔ت)چنانچہ مفتی صاحب نے بھی خود تحریرکیاہے اوریہ تو ایك دفعہ بھی نہیں لکھا کہ لفساد الوصیۃ لجمیع المال(کل مال کی وصیت کے فاسد ہونے کی وجہ سے۔ت)اس سے صاف ظاہرہے کہ ردعلی الزوجین جوبناء علی مذہب المتاخرین قول مفتٰی بہ ہے اس کادرجہ صاف ظاہرہے کہ ردعلی الزجین جوبناء علی مذہب المتاخرین قول مفتٰی بہ ہے اس کادرجہ صرف بیت المال سے مقدم ہے چنانچہ بنات المعتق وذوی ارحامہ والبنت والابن من الرضاع(معتق کی بیٹیوں،اس کے ذوی الارحام،اس کی رضاعی بیٹی اوراس کے رضاعی بیٹے۔ت)کوبیت المال سے تقدیم ہے،
|
کما حققناہ الشامی[1] رحمہ اﷲ تحت قولہ فی الاشباہ نقل عن معراج الدرایۃ۔ |
جیساکہ اس کی تحقیق علامہ شامی علیہ الرحمۃ نے مصنف کے قول فی الاشباہ کے تحت معراج الدرایہ سے نقل فرمائی ہے۔(ت) |
نہ یہ کہ ردعلی الزوجین کومستحقین پرتقدیم ہے بلکہ رد علی ذوی الفروض النسبیہ وذوی الارحام موصی لہ بکل المال (نسبی ذوالفرض پررد،ذوی الارحام اور وہ جس کے حق میں تمام مال کی وصیت کی گئی۔ت)جواہل استحقاق ہے یہ سارے فریق ردعلی الزوجین سے مقدم ہیں اب جزئ صریح اس امرکی کہ:
|
الموصی لہ بجمیع المال مقدم علی الرد علی الزوجین۔ |
جس کے لئے کل مال کی وصیت کی گئی وہ زوجین پررَد سے مقدم ہے۔(ت) |
ہدیہ ناظرین ہے،
|
وفی السراجی ثم الموصی لہ بجمیع المال ثم بیت المال[2] ان لم یکن احدالمذکورین فالمال کلہ للموصٰی لہ لان منعہ عن زیادۃ الثلث کان للمضرۃ بالورثۃ وقدانتفی بھا |
سراجی میں ہے پھروہ جس کے لئے کل مال کی وصیت کی گئی پھربیت المال،اگران میں سے کوئی موجودنہ ہوجن کا ذکر کیاگیاہے توسارا مال اس شخص کودیں گے جس کے لئے کل مال کی وصیت کی گئی،اس لئے کہ اس کے لئے تہائی مال سے زائد کی ممانعت وارثوں کے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع