30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
علیہ ۱۲ الدرالمختار[1]۔ |
جائزنہیں ۱۲ الدرالمختار(ت) |
اورباقی اس کی زوجہ مسماۃ عالم خاتون کودیاجائے گا کیونکہ ربع اس کوبالفریضہ ملتاہے،
|
فللزوجات حالتان الربع بلاولد والثمن مع الولد۱۲ الدرالمختار۔[2] والربع للزوجات اذا لم یکن ولد و ولدابن ۱۲جوھرہ نیرہ۔[3] |
بیویوں کی دوحالتیں ہیں،اگرمرنے والے شوہرکی اولادنہ ہوتوبیویوں کوکل مال کاچوتھا حصہ اوراولادہوتوآٹھواں حصہ ملتاہے۱۲درمختار(ت) اوربیویوں کوچوتھاحصہ ملے گا اگرمرنے والے شوہر کی اولادنہ ہوتو۱۲جوہرہ نیرہ(ت) |
اورباقی بھی مساۃ عالم خاتون کوبالرد ملتا ہے یعنی بوقت نہ ہونے دیگرورثہ کے اس پریعنی زوجہ پر رَد کیاجائے گا،
|
قلت وفی الاشباہ انہ یرد علیھما فی زماننا لفساد بیت المال وقدمناہ فی الولاء،الدرالمختار[4]۔
قولہ وفی الاشباہ قال فی القنیۃ و یفتی بالرد علی الزّوجین فی زماننا لفساد بیت المال و فی الزیلعی عن النھایۃ مافضل عن فرض احد الزوجین یرد علی و کذا البنت والابن من الرضاع یصرف الیھما |
میں کہتاہوں کہ اشباہ میں ہے کہ ہمارے زمانے میں بیت المال کے فاسد ہوجانے کی وجہ سے زوجین پرمیراث کورَد کیاجائے گا۔اس کاذکر ہم کتاب الولاء میں کرآئے، درمختار۔ (ت) اوراس کاقول کہ"اشباہ میں ہے"قنیہ میں فرمایاہمارے زمانے میں بیت المال کے فاسدہوجانے کی وجہ سے زوجین پررَد کافتوی دیاجائے گا،اورزیلعی میں نہایہ سے منقول ہے کہ زوجین میں سے کسی ایك فرضی حصہ کی وصولی کے بعد جو کچھ بچ جائے وہ اسی پرلوٹادیاجائے گا۔اسی طرح رضاعی بیٹے اوربیٹی کی طرف میراث کو |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع