30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
فللمرأۃ ربع ذٰلك والباقی للموصی لہ لان الوصیۃ مقدمۃ علی بیت المال فتاوٰی عالمگیری[1]۔وکذلك فی الفتاوی الخلاصۃ،اوصی بثلث مالہ ﷲ تعالٰی فھی باطلۃ وقال محمد رحمہ اﷲ تصرف لوجوہ البر در مختار[2]۔قولہ وقال محمد رحمہ اﷲ تصرف لوجوہ البر قدمنا عن الظھیریۃ انہ المفتی بہ ای لانہ وان کان کل شیئ ﷲ تعالٰی لکن المراد التصدق لوجھہ تعالٰی تصحیحا لکلامہ بقرینۃ الحال شامی[3]، ولو اوصی بالثلث فی وجوہ الخیر یصرف الی القنطرۃ او بناء المسجد اوطلبۃ العلم کذا فی تاتارخانیۃ فتاوٰی عالمگیری[4]،وھکذا فی فتاوٰی خلاصۃ،ولامن صبی غیر ممیز اصلا ولوفی وجوہ الخیر خلافا للشافعی |
مال میں شرکت باقی رہی،چنانچہ عورت کو اسی کا چوتھاحصہ ملے گا اورباقی وصیت والے شخص کو ملے گا کیونکہ وصیت بیت المال پرمقدم ہے(فتاوائے عالمگیری)۔اسی طرح فتاوٰی خلاصہ میں ہے اگرکسی نے اپنے تہائی مال کی اﷲ تعالٰی کے لئے وصیت کی تووہ باطل ہے۔امام محمدعلیہ الرحمہ نے فرمایا کہ"اس کو نیکی کے کاموں میں خرچ کیاجائے گا"ہم بحوالہ ظہیریہ پہلے ذکرکرچکے ہیں کہ بیشك فتوٰی اسی پر ہے اس لئے کہ اگرچہ ہرشیئ اﷲ تعالٰی ہی کے لئے ہے لیکن اس سے مراد اﷲ تعالٰی ہی کے لئے ہے لیکن اس سے مراداﷲ تعالٰی کی رضاکے لئے صدقہ کرناہے تاکہ قرینہ حالیہ کی وجہ سے موصی کاکلام صحیح قرار دیاجاسکے(شامی)۔اوراگرنیکی کے کاموں میں تہائی کی وصیت کی تو وہ مال پل،مسجد کی تعمیر اورطالبعلموں پرخرچ کیاجائے گا،یونہی تاتارخانیہ میں ہے(فتاوٰی عالمگیری) ۔ایسا ہی فتاوٰی خلاصہ میں ہے،اورنابالغ تمیزنہ رکھنے والے بچے کی وصیت بالکل نافذنہیں ہوتی اگرچہ نیکی کے کاموں کے لئے ہو بخلاف امام شافعی |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع