30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اورواضح البیان ہے۔
|
شواھد: فی فتاوی النوازل اوصی لرجل بکل مالہ ومات ولم یترك وارثا الاامرأتہ فان لم تجز فلھا السدس و الباقی للموصی لہ لان لہ الثلث بلااجازۃ فیبقی الثلثان فلھاربعھما وھو سدس الکل درمختار[1] قولہ فلھا ربعھما لان الارث بعد الوصیۃ ففرضھا ربع الثلثین الباقین شامی[2]۔کذٰلك لومات الرجل عن امرأتہ و اوصی بمالہ کلہ لاجنبی واوصی بمالہ کلہ لاجنبی ولم تجز المرأۃ فللمرأۃ السدس وخمسۃ اسداسہ للموصی لہ لان الثلث صار مستحقا بالوصیۃ بقیت الشرکۃ فی ثلثی المال |
دلائل: فتاوٰی نوازل میں ہے ایك شخص نے اپنے تمام مال کی کسی مرد کے لئے وصیت کی اورمرگیا درانحالیکہ سوائے ایك بیوی کے اس نے کوئی وارث نہیں چھوڑا،پھراگربیوی نے اجازت نہ دی تواس بیوی کوکل مال کاچھٹاحصہ اورباقی اس شخص کوملے گا جس کے لئے وصیت کی گئی اس لئے کہ وصیت والے مرد کو ایك تہائی توبلا اجازت ملے گا باقی دوتہائی بچاتو بس بیوی کودو تہائی میں سے چوتھا حصہ ملے گا اور وہ کل مال کاچھٹاحصہ بنتا ہے(درمختار)۔ماتن کاقول کہ"بیوی کودوتہائی کاچوتھا حصہ ملے گا"وہ اس لئے ہے کہ میراث وصیت کے بعد ہوتی ہے چنانچہ بیوی کافرضی حصہ باقی بچنے والے دوتہائی میں سے چوتھا ہوگا(شامی)۔اسی طرح اگرکوئی شخص ایك بیوی چھوڑکر مرااورتمام مال کی وصیت کسی اجنبی کے لئے کرگیا اورعورت نے وصیت کی اجازت نہیں دی تواس صورت میں عورت کو کل مال کاچھٹا(۶ /۱)ملے گا،اورباقی پانچ حصے(۶ /۵)وصیت والے شخص کو ملیں گے۔اس لئے کہ وہ شخص وصیت کے سبب سے ایك تہائی کامستحق ہوگیا اوردوتہائی |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع