30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تیسرے حصہ میں اوردوسری صورت میں باقی ماندہ زیورات کے تیسرے حصے میں شاہ محمدخاں کاحق ہوگا اوردونوں صورتوں میں باقی دوحصے عالم خاتون کے حق ہوں گے۔
(۴)تجہیزوتکفین کاخرچ پہلے ہی سے نکال لیاجائے گا اس کابارکسی فریق کے حصے پرنہیں پڑے گا۔
(۵)مسماۃ عالم خاتون کورہائش کا حق شرعًا حاصل نہیں ہے اس بات میں واحدبخش کی وصیت لغو اوربے اثر رہے گی۔
(۶)ظروف وغیرہ کی تقسیم کی بھی یہی صورت ہوگی کہ ان کے تیسرے حصے میں شاہ محمدخاں کاحق ہے اوردوحصے مسمات عالم خاتون کاحق ہے لیکن یہ مناسب ہوگاکہ تمام ظروف شاہ محمدخاں کو دے دئیے جائیں اورعالم خاتون کاحق جوان ظروف میں ہے وہ واحد بخش کی جائداد غیرمنقولہ سے پوراکردیاجائے۔
(۷)فریقین یعنی عالم خاتون اورشاہ محمدخاں کا اصل حق توموجودہ جائداد متروکہ واحد بخش ہی میں ہے لیکن اگرکوئی فریق اپنے حصے کے بدلے اس کی قیمت لینے پر رضامند ہوجائے توعدالت کو لازم ہوگا کہ اس فریق کوقیمت دے دے لیکن کسی فریق کوخواہ وہ عالم خاتون ہویا شاہ محمدخاں اس کے حصے کی قیمت لینے پرمجبورکرنا شرعًا عدالت کے اختیارسے باہر ہے۔
نوٹ:متوفی کی اولادنہ ہونے کی صورت میں بعداداکرنے خرچ تجہیزوتکفین اوراداکرنے حق مہریاایسی ہی اورقرضوں کے جس قدرباقی بچے اس باقیماندہ ترکہ کے تیسرے حصہ میں سے وصیت اداکرنے کے بعد جوباقی بچے اس میں سے چہارم حصہ بیوہ کاحق ہوتاہے۔لیکن اگر متوفی کاکوئی بھی قریبی یابعیدی رشتہ دار موجودنہ ہو جیساکہ موجودہ سوال کی صورت میں ہے توبعدادائے خرچہ تجہیزوتکفین اورادائے حق مہر ودیگرقرضوں اورادائے حصہ وصیت کے جس قدر باقی بچے وہ سب بیوہ کاحق ہوتاہے جیساکہ کتاب درمختاروردالمحتاروغیرہ میں صاف لکھاہواہے ھذاواﷲ اعلم بالصواب۔
نقل جواب۲
(نقل فتوی مولوی صاحب برانڈامولویان)
ھوالملھم بالحق والصواب(یہ حق اوردرستگی کے ساتھ الہام کیاگیا۔ت)
شرعًا یہ وصیت صحیح اورنافذ ہے کیونکہ وصیت کنندہ عاقل بالغ ہے اورزوجہ کاحق مال متروکہ متوفی سے سدس ہے اورباقی عمرو موصی لہ کاہے اورﷲ اسباب خیر میں بھی صرف کرے مثلًا تعمیرمسجد کی کرادے یا پل تیارکرادے یاطلبائے علم دین اسلام کو دے،روایات کتب معتبرہ اس پردال صریح الدلالۃ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع