30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
عطردان،ایك قیمتی مبلغ سے بازوبند نقرہ،ایك جوڑہ قیمتی سے کنگن نقرہ،دانوال ایك جوڑہ قیمتی مبلغ(عہ)کل جملہ مبلغ(ماعہ عہ) کے زیورات،مندرجہ بالا اپنی زوجہ مسماۃ عالم خاتون کوملے گا ان زیورات سے کسی کا تعلق اور واسطہ نہ ہوگا،میری زوجہ مسماۃ عالم خاتون مذکورہ بالاکے ہیں،ماسوائے اس کے میری جائداد غیرمنقولہ ازقسم مکانات رہائش بمقام نوشہرہ ہیں اوروہ پیداکردہ مظہرکے ہیں ان کاانتظام اس طورپر رہے گا کہ وہ مکانات زیرحفاظت شاہ محمدخاں ولد مسکرخاں ذات نانبوچی سکنہ خان پور کے اور مالك بھی یہی رہے گا اگرمظہر کی عورت مظہرکے حق میں رہ کرگزارہ کرے تو اس کوفقط حق آسائش کاحاصل رہے گاوہ یعنی تاحق مظہرآبادرہے گی،رہن اوربیع مسماۃ عالم خاتون زوجہ ام کواختیار ہرگزنہ ہوگا اوراگروہ کسی دوسری جگہ اپناعقد نکاح کرادے یا جدید خاوندکرے تواس کے ساتھ اس کا کوئی تعلق اورواسطہ نہ ہوگا مالك اورقابض شاہ محمدخاں مذکورہے اور اس کو اختیارہے کہ اس کو فروخت کرے یارہن کرے بعد فروخت یارہن زررہن یازربیع میری تجہیزوتکفین اورمیری ارواح پربخش دے گا یعنی غرضکہ مالك شاہ محمدخاں مکانات وغیرہ کاہے اورعلاوہ اس کے اسباب خانہ داری ازقسم برتن گلی ومسی وکٹ وغیرہ دیگچہ ہامسی و تھالی کلاں مسی وکٹورہ کٹ وچارپائی ہائے وغیرہ جملہ سامان خانہ دارری کامالك بھی شاہ محمدخاں رہے گا،بموقع محفل امامین شہیدین شریفین شاہ محمدخاں جملہ برتن ہائے میں سے گلیم دری کلاں وغیرہ لے جائے اوراستعمال کرے سب کچھ شاہ محمدخاں کے اختیار میں ہوگا زوجہ ام مسماۃ عالم خاتون کوضرورت استعمال کے لئے دئیے جائیں گے بشرطیکہ وہ فروخت یابیع روپوش نہ کرے ورنہ کلہم اشیاء مندرجہ بالا کامالك شاہ محمد خاں ہے جس نے میری خدمت گزاری اور وفاداری ازحدکی ہے بعد انتقال میری بھی تجہیزوتکفین کاانتظام کرے گا اورمیری منزلت آخر کو پورا انجام دے گا۔یہ جملہ شرائط بعد میرے قابل تعمیل ہوں گی جب تك میں حیات موجودہوں کسی کاتعلق نہیں بعد میں بموجب بالاتقسیم ہوں گے اورقابل عمل ہوں گی لہٰذا ایں چند حروف بطور وصیت نامہ لکھ دیتاہوں کہ سندرہے اوروقت حاجت کے کام آئے۔
المرقوم ۲۲صفر۱۳۳۱ھ مطابق ۲۳فروری ۱۹۱۱ء
استفتاء
مسمی واحدبخش مرگیاہے صرف ایك بیوہ مسماۃ عالمون چھوڑگیاہے دیگرکوئی اس کاوارث نہیں مرنے سے قریب ایك یادوماہ یا پندرہ یوم وہ چہارپائی بند ہوگیا اس کوتپ دق کی بیماری تھی اسی بیماری میں وہ فوت ہوا،ہوش اس کو آخرتك رہی،مرنے سے ایك ہفتہ پہلے اس کے معالج نے یہ کہہ دیاتھا کہ وہ اب نہ بچے گا اوراس
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع