30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
والبیعان الاولان وان لزم فیھما تفریق الصفقۃ لان احد المبیع منہما کان صغیرا ثم البیع فی حقہ بمجرد الایجاب والاخر بالغا تاخر فی حقہ الی قبولہ لکنہ لیس تفریقا علی البائع بل منہ فلا یضرلانہ انما کان یمنع لحقہ فاذا رضی بہ فلاحرج کمن باع صبرۃ طعام کل فقیز بدرھم جاز البیع فی فقیز واحد و للمشتری الخیار لتفرق الصفقۃ علیہ کما فی الھدایۃ [1] لاللبائع وان تفرقت علیہ ایضا لان التفرق جاء منہ فیکون راضیابہ کما فی البنایۃ۔[2] |
پہلی دونوں بیعوں میں اگرچہ تفریق صفقہ لازم ہے کیونکہ جن دولڑکوں کے نام بیع کی گئی ان میں سے ایك نابالغ ہے، پھر اس نابالغ کے حق میں بیع فقط ایجاب سے ہوئی اور دوسرا چونکہ بالغ ہے لہٰذا اس کے حق میں بیع اس کے قبول کرنے پر موقوف ہوگئی لیکن صفقہ میں یہ تفریق بائع پر لازم نہیں آئی بلکہ اسکی طرف سے لازم آئی چنانچہ یہ نقصان دہ نہیں۔ اس لئے کہ ممانعت تو اس کے حق کی وجہ سے تھی جب وہ اس پر راضی ہے توکوئی حرج نہیں،جیسے کسی نے گندم کا ڈھیربیچاکہ ہربوری ایك درہم کی ہے تویہ بیع ایك بوری میں جائزہوگئی اورچونکہ مشتری پر صفقہ کامتفرق ہونالازم آیاہے لہٰذا اس کو اختیارہے جیساکہ ہدایہ میں ہے بائع کو اختیارنہیں ملے گا اگرچہ اس پربھی صفقہ کامتفرق ہونالازم آیاہے کیونکہ یہ متفرق ہونا اس کی طرف سے لازم آیاہے تو اس طرح وہ اس پرراضی ہوا،جیساکہ بنایہ میں ہے۔(ت) |
تویہ جائدادیں اس تاوان کی زیرپانہیں ہوسکتیں،رہے ان کے زرثمن پچھلے دونوں بیعنامے جن میں زرثمن کافرضی وصول لکھ دیا ان کامطالبہ نبیروں پرسے ساقط نہ ہوا اگرچہ اس سے مقصود یہی ہوکہ زرثمن مشتریوں کو معاف ہوجائے کہ شرع میں دربارہ عقودومعاملات معانی الفاظ پر نظرہے،نہ مقاصد واغراض پر،ورنہ حیل شرعیہ یکسرباطل ہوجائیں وقد حققناہ فی کاسرالسفیہ الواھم(اور اس کی تحقیق ہم نے رسالہ کاسرالسفیہ الواھم میں کردی ہے۔ت)یہاں لفظ اقراروصول ہے اوروہ نہ ہبہ ہے نہ ابرابلکہ ایك غلط خبرتو مجرد
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع