30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
صرف کیا اس میں سے حصہ نابالغان کاتاوان اس پرلازم ہونا تو ظاہر ہے لانہ لایملك التبرع بمالھم(اس لئے کہ وہ نا بالغوں کے مال میں تصرف کامالك نہیں۔ت)یونہی قرض مذکورہ کہ وہ بھی تبرع ہے۔ادب الاوصیاء میں عمدہ وولوالجیہ وقنیہ و خلاصہ سے ہے:
|
لایقرض الاب ولاوصیہ مال الیتیم۔[1] |
باپ اوروصی یتیم کے مال کو قرض پرنہیں دے سکتے۔(ت) |
یوں ہی جبکہ بالغوں کی بھی رضاواجازت نہ تھی تو ان کابھی تاوان زیدپرعائد اگرچہ انہوں نے زید کو صرف کرتے دیکھا اور اس کے رعب سے کچھ نہ کہہ سکے۔اشباہ میں ہے:
|
لورأی غیرہ یتلف مالہ فسکت لایکون اذنا باتلافہ۔[2] |
اگرکوئی شخص کسی کواپنامال بربادکرتے دیکھ کر چپ رہا تویہ اس کی طرف سے برباد کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔(ت) |
ظاہرہے کہ زرنقد یاجوترکہ زیدنے چھوڑا اس سے ادائے دیون تقسیم ترکہ پرمقدم ہے اور یہ تاوان بھی زیدپردَین ہیں توجب تك ادانہ ہولیں ورثائے زید کو ترکہ نہ پہنچے گاجائداد کہ زیدنے اپنے نام خریدی اسی کی ملك ہوئی اگرچہ اس کی قیمت زرمشترك سے ادا کی اس سے شرکاء کاجائداد خریدکردہ میں حصہ نہیں ہوجاتا ہاں زرثمن کہ مال مشترك سے دیاہے ہرشریك کا اس میں جتنا حصہ تھا اُتنے کاتاوان زیدپر آیاکہ یہ بھی اگلے تاوانوں میں شامل ہوگا۔ردالمحتارمیں ہے:
|
مااشتراہ احدھم لنفسہ یکون لہ ویضمن حصۃ شرکائہ من ثمنہ اذا دفعہ من المال المشترک۔[3] |
شرکاء میں سے اگرکسی نے کوئی چیز اپنی ذات کے لئے خریدی تووہ اسی کی ہوگی اوروہ ثمن میں سے دیگرشرکاء کے حصوں کا ضامن ہوگا جبکہ اس نے ادائیگی مال مشترك سے کی ہو۔ (ت) |
توظاہرہواکہ تینوں بیعنامے صحیح ہوئے ہرایك میں زید نے اپنی ہی ملك نبیران کے نام بیع کی اورنبیرے اُن سب مبیعوں کے مالك ہوگئے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع